Thursday, 21 August 2014

انقلاب کا ترپ پتّہ

انقلاب کا ترپ پتّہ  

تنویر آرائیں


چلو جی اب ہم گاندھی کے نقش قدم پر چل پڑے ہیں، اب کوئی بھی ٹیکس نہیں دے گا، بجلی اور گیس کے بل بھی نہیں دیں گے، ریاست کی "رام نام ستے ہے"، عمران خان صاحب نے اعلان کر دیا سو کر دیا، اور ہاں 48 گھنٹے ہیں میاں صاحب کے پاس استعفیٰ نہ دیا تو وزارت عظمیٰ کا بھی "انتم سنسکار".

خان صاحب تو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح سے بھی آگے بڑھنے کی کوشش میں لگ رہے ہیں، کیوں کہ سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا اعلان تو کبھی بانی پاکستان نے بھی نہیں کیا تھا، حالانکہ اس وقت تو ماحول اور صورتحال انتہائی گھمبھیر تھی.

1977 میں سول نافرمانی تجویز پیر پگارا، مولانا مفتی محمود، ولی خان، میاں طفیل محمّد، پروفسرغفور، نواب خیر بخش مری، سمیت دیگر کئی اہم سیاستدانوں کے سامنے اس وقت رکھی گئی تھی جب تقریباً 1200 لوگ جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، پورا ملک جام پڑا تھا اور کئی شہروں میں مارشل لا نافذ تھا، اس وقت انہوں نے کہا تھا کے یہ ریاست سے بغاوت ہو گی، ریاست کا کوئی قصور نہیں ہے.

سول نافرمانی کی تحریک عموماً کولونیل طاقتوں یا مارشل لا حکومتوں کے خلاف چلائی جاتی ہے، جس کی دو مثالیں موجود ہیں، مہاتما گاندھی نے یہ تحریک برطانوی قبضے سے آزادی کے لئے چلائی تھی. جبکے 1919 کے مصر کے انقلاب میں بھی یہ تحریک برطانوی قبضے کے خلاف چلائی گئی تھی.

خان صاحب فرما رہے ہیں کہ بجلی اور گیس کے بل ادا نہیں کریں گے اور نہ ہی ٹیکس دیں گے، حضور والا پاکستان قوم پہلے ہی آپ کی تجویز پر عمل پیرا ہے.

تنخواہ دار بھی ٹیکس دینا نہیں چاہتے مگر بینک خود ہی ان کی تنخواہوں سے ٹیکس کاٹ لیتا ہے، ایف بی آر کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی کل آبادی میں سے 1 فیصد سے بھی کم لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں.


ایک بین الاقوامی صحافی کا پاکستان میں ٹیکس کے حوالے سے ٹویٹ حاضر خدمت ہے:
https://twitter.com/khoureld/status/501051405105246208

خان صاحب فرما رہے ہیں کے یہ اسمبلی جعلی ہے تو ذرا سی جرات اور کریں اور کہہ دیں کہ اسی اسمبلی میں آپ کے جو ممبر حضرات ہیں وہ بھی جعلی ہیں، کیوں کہ ایسا تو نہیں چلے گا نا  کہ ن لیگ یا دیگر پارٹیوں کے ممبر جعلی جب کے اسی انتخابات کے زریعے سے آنے والے آپ کے اصلی!

پاکستان میں یہ دھاندلی دھاندلی والا کھیل خان صاحب نے ہی متعارف نہیں کروایا، یہ تو تقریباً اس ملک کے قیام سے ہی چلا آ رہا ہے، جو بھی ہارتا ہے وہ دھاندلی کا رونا رونے بیٹھ جاتا ہے. کسی کو دھاندلی کا رونا رونا چاہیے تو وہ پاکستان پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور عوامی نیشنل پارٹی ہونی چاہیے کیوں کہ خان صاحب جن سے مذاکرات کے لئے حکومت کے پیچھے پڑے ہوۓ تھے انہوں نے ان تین پارٹیوں کو انتخابی مہم ہی نہیں چلانے دی تھی.

پاکستان کے ساتھ اس وقت "بزکشی" کا کھیل جاری ہے (بزکشی کھیل پولو سے ملتا جلتا ہے، جس میں وحشیانہ حرکتوں کا مظاہرہ کیا جاتا ہے. اس کھیل میں گھڑ سوار کسی بچھڑے یہ بکرے کے دھڑ کو ایک دوسرے سے چھیننے کا مقابلہ کرتے ہیں، اس کھیل کے اصولوں کے مطابق کبھی اس دھڑ کو گھسیٹا جاتا تھا کبھی اٹھایا جاتا تھا) آج ریاست پاکستان اور اس کے سپریم ادارے وہ دھڑ بنے ہوۓ ہیں جس کو کبھی قادری صاحب چھینے کی کوشش کرتا ہوا نظر آتا ہے تو کبھی خان صاحب.

اس وقت جب خیبر پختونخواہ میں تقریباً دس لاکھ متاثرین بیٹھے ہوۓ ہیں اور بارش نے بھی کافی تباہی پھیلائی ہے تحریک انصاف کے وزیر اعلی اسلام آباد میں انٹرٹینمنٹ فرما رہے ہیں اور صوبے کی عوام کو بے یار و مددگار چھوڑا ہوا ہے کیا یہ نیا پاکستان ہے؟ یا ان کو سنبھالنے کے ڈر سے اسلام آباد آ بیٹھے ہیں؟

خان صاحب کا سارا زور مرکزی حکومت کو گھرانے پر ہے، اس کا مقصد کے صرف جن نشستوں سے ن لیگ جیتی ہے وہیں دھاندلی ہوئی ہے، جہاں کوئی اور جیتا وہاں سب فرشتے بیٹھے ہوۓ تھے، وہاں الیکشن کمیشن کا عملہ عمامہ پہنے ہاتھ میں تسبیح پکڑے بیٹھا تھا.

رہی بات جمہوریت کی تو اس کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ خان صاحب فرماتے ہیں 12 گھنٹے میں سوچتا رہا اور پھر اس نتیجے پر پہنچا کہ سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان کیا جاۓ.

مطلب یہ فیصلہ خان صاحب کا اپنا ہے اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کا اس سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ خان صاحب نے ان سے مشوره کرنا بھی گوارا نہیں سمجھا. ویسے تو خان صاحب کور کمیٹی کی بہت بات کرتے ہیں، اب کور کمیٹی کہاں گئی؟

خان صاحب فرماتے ہیں کے یہ لوگ الیکشن کمیشن خرید لیتے ہیں، شاید صاحب کو ڈر ہے کہ آئندہ انتخابات میں یہ ان سیٹوں سے بھی ہاتھ نہ دھو بیٹھیں، شاید ایک لاکھ موٹر سائیکل کا دعویٰ خاک میں مل جانے کے بعد خان صاحب کچھ سنجیدہ ہو گئے ہیں، لیکن یہ میری غلط فہمی ہی ہو سکتی ہے، کیوں کہ خان صاحب کا 48 گھنٹوں بعد اسمبلی میں گھسنے والی دھمکی نے سارا پول کھول کے رکھ دیا ہے.

اگر اسمبلی یا وزیراعظم ہاؤس میں چند ہزار کارکنان گھسا کر ہی حکومت میں آنا ہے تو پھر ملک میں انتخابات کروانے کا کیا فائدہ آج آپ چند ہزار لوگ پارلیمنٹ ہاؤس میں گھسا کر وزیر اعظم بنے کل کوئی اور یہی عمل دوہراے گا اگلے دن کوئی اور کھڑا ہو جاۓ گا. پھر تو ملک میں انتخابات کے بجاۓ دھرنوں سے حکومتیں منتخب کی جائیں گی. واجپائی نے بھی کیا خوب جملہ کہا تھا کہ اتنی تو میں اپنی دھوتیاں نہیں بدلتا جتنے پاکستان میں وزیر اعظم بدلتے ہیں.

پاکستانی عوام گزشتہ سال یہ امید لگا بیٹھی تھی کے ملک میں جمہوریت مستحکم ہو رہی ہے اور ملکی تاریخ میں پہلی بار اقتدار کی منتقلی آئین و قانون کے مطابق ہوئی ہے، جبکہ چھینا جھپٹی کلچر کا خاتمہ ہوا ہے، ان کو امید تھی کہ اب ملک میں کچھ بہتری آئے گی اور عوامی منصوبات پر کچھ کام ہو پاۓ گا.

لیکن ابھی تو صرف ایک سال ہی گزرا کے ماضی کی طرح ٹانگ کھینچنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، ملک میں ایک بار پھر عدم برداشت، ہوس اقتدار اور غیر جمہوری جن بے قابو ہو گیا ہے. لیکن اس دفعہ اگر یہ جن اپنے منصوبوں میں کامیاب ہو گیا تو میرے خیال سے ملک سے جمہوریت اب ایسا روٹھے گی کے منانے کے لئے اس بار پاپڑ بیلنے سے بھی کام نہیں چلے گا.

خان صاحب کو عام آدمی پارٹی سے سبق سیکھنا چاہیے، وہ بھی لوکل گورنمنٹ میں کامیابی حاصل کر کے مرکز کا خواب دیکھ رہی تھی اور اسی چکر میں استفیٰ دے کر گھر کو چلی گئے تھی، پھر اس کا حشر کیا ہوا سب جانتے ہیں. سندھی زبان میں ایک بڑی مشہور کہاوت ہے کہ؛

"سجی جے چکر میں ادھ بھی ونجاۓ ویھندے" (پوری کے چکر میں آدھی بھی گنوا بیٹھو گے).

دوسری طرف حکومت بھی ستو پئے نظر آتی ہے، ملک میں ایک مہینے سے جاری افراتفری سے نمٹنے کے لئے کوئی بھی حکمت عملی نظر نہیں آ رہی، ملکی ادارے مفلوج نظر آ رہے ہیں عوام حالت کسمپرسی میں مبتلا ہے، ملکی سرگرمیاں مفلوج ہو چکی ہیں اور کاروبار کو گھن لگ رہا ہے، اسحٰق ڈار کے بقول ان احتجاجوں کے باعث ملک کو 450 بلین کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا. مگر میاں صاحب بھولے بھیا بنے عوام سے پوچھ رہے ہیں کہ بھئی میرا کیا قصور؟

کم سے کم اتنا تو کر سکتے ہیں کے پارلیمنٹ کا جوائنٹ اجلاس بلا کے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیں، اور ایک آل پارٹیز کانفرنس بلا کر ان صاحبان سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی وضع کریں.

یہ بلاگ ڈان اردو پر 19 اگست  2014 کو شایع ہو چکا ہے.

Thursday, 14 August 2014

انقلاب یا انتشار؟

انقلاب یا  انتشار؟

تنویر آرائیں


جو سامنے آئے اسے راستے سے ہٹا دو، جتھہ بن کے ان کے گھروں میں گھس جاؤ، کریک ڈاؤں کرو، پکڑ کے یہاں لے آؤ، تھانے جلا دو، ڈکیتی کے ملزمان کو آزاد کروا دو، دما دم مست قلندر.

گزشتہ کچھ روز سے ڈاکٹر طاہر القادری کی عوامی تحریک کے کارکنوں کو اکسانے کی تقاریر آخر کار رنگ لے آئیں. عوامی تحریک کے گلو بٹ پنجاب  پولیس پر جس طرح ٹوٹے یہ واضح پیغام ہے کہ ان کا نام نہاد انقلاب پر تشدد ہے.

ایک وقت تھا کہ لال مسجد سے کچھ لوگ لاٹھیاں اٹھاۓ نکلتے تھے اور باہر توڑ پھوڑ کرتے نظر آتے تھے. اس وقت ہماری عوام اور میڈیا زور زور سے چلانے لگی تھی کہ یہ کون لوگ ہیں، انہیں روکو، شہریوں کو ان کے شر سے بچاؤ.

آج ایک بار پھر لال مسجد کی  تاریخ دہرائی جا رہی ہے بلکہ اس بار تو یہ لوگ ان سے  بھی نمبر لے گئے. پولیس تھانے جلاۓ جا رہے ہیں، پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ان کے گھروں میں گھسنے کی تلقین کی جا رہی ہے، دوسری طرف ہمارے میڈیا کے چند چینل عجیب سے تجزیے کرتے نظر آ رہے ہیں، کیا یہ  صرف اس لئے کہ پرویز مشرف کا ساتھ دینے والے اس بار انتشار پھیلانے والوں کا ساتھ دے رہے ہیں، جمہوریت کے علمبردار آج جمہوریت کی بساط لپیٹنے کے در پر کیوں ہیں؟

طاہر القادری کے رکاوٹیں ہٹانے کے بیان کے بعد ڈنڈا بردار نمودار ہوئے اور پولیس کے ساتھ ٹکراؤ شروع ہو گیا. اس افراتفری کے دوران ایک پولیس وین بھی جلا دی گئ، کئی ایک پولیس اہلکاروں کو تلقین کے مطابق تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا.

حیرت کی بات یہ کہ وہ ڈنڈا بردار پوری تیاری کے ساتھ تھے، میڈیا رپورٹس کے  مطابق ان کے پاس بلیٹ پروف جیکٹس، پیٹرول بم اور آنسو گیس سے بچاؤ کے ماسک، غلیلیں اور کثیر تعداد میں کنچے (بلور) موجود تھے. جبکے پولیس ربڑ کی گولیوں اور آنسو گیس پر اکتفا کر رہی تھی. ان تمام پروڈکٹس کی موجودگی سے ان کا مقصد واضح ہو جاتا ہے.

لاہور سے پھیلتا ہوا یہ انتشار خوشاب تک پہنچ گیا جہاں تھانے کو  آگ لگا دی گئی اور ڈی ایس  سمیت 3 پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنایا گیا، جبکے ٣ ڈکیتی کے ملزمان  رفو چکر ہو گئے، تھانے کو آگ لگانے کے بعد تھانے میں موجود ہتھیار بھی ہتھیا لئے گئے. ابتدائی رپورٹس کے مطابق پاکستان عوامی تحریک کے جن کارکنوں نے تھانے پر دھاوا بولا تھا وہ اسلحے سے لیس تھے.

 
سارا پاکستان دیکھ رہا ہے کہ کئی دنوں سے منہاج القران سیکریٹیریٹ میں کیا ہو رہا ہے اور وہاں سے کیسے کیسے بیان سامنے آ رہے ہیں. جب لیڈران ہی کارکنوں کو انتشار پھیلانے کی تلقین کریں گے تو باقی رہ کیا جاتا ہے؟ ایک طرف ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس اٹھاۓ پولیس اور دوسری جانب پیٹرول بموں سے لیس لوگ، انصاف آپ خود کریں.

عوامی تحریک کا ایک رہنما بیان دیتا ہوا نظر آتا ہے کہ کارکنوں کو کچھ ہوا تو وفاقی حکومت ذمّہ دار ہو گی، دوسری طرف کہا جاتا ہے کہ کارکنوں کو واپس بلانے کے لئے نہیں کہا جاۓ گا. اس کا مطلب کارکنوں کو کچھ نہ کیا جاۓ، جو چاہے کرتے رہیں.

انصاف کا تقاضہ تو یہ ہے کہ اگر کارکنوں پر آنے والی آنچ کی ذمّہ دار حکومت ہے تو اسی طرح پولیس کے زخمی ہونے، پولیس وین کو جلاۓ جانے، تھانے کو آگ لگانے، ڈی ایس پی اور پولیس  کو یرغمال بنانے، ہتھیار چھیننے اور افراتفری و انتشار پھیلانے کا ذمّہ دار ڈاکٹر قادری کو ٹھہرایا جاۓ اور ان تمام جرائم کی ایف آئ آر بھی ان پر داخل کی جاۓ.

بناسپتی انقلابیوں نے پاکستان کو تماشا بنایا ہوا ہے جس کا دل کرتا ہے منہ اٹھا کے چلا آتا ہے اور پاکستانی عوام کے لئے انقلاب برپا کرنے اٹھ کھڑا ہوتا ہے.

معروف صحافی و تجزیہ نگار رضا رومی صاحب سے اس حوالے سے جب میری بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا؛

"ڈاکٹر طاہرالقادری کے مطالبات اور حرکتیں مسائل پیدا کرنے والی ہیں، جبکہ  حکومت انتظامی معاملات سنبھالنے کے بجاۓ ان معاملات سے نمٹنے میں لگی لگی ہوئی ہے. جمہوریت میں احتجاج سب کا حق ہے لیکن احتجاج کے نام پر توڑ پھوڑ کے سلسلے سے  آنے والے دنوں میں تشدد اور عدم استحکام بڑھنے کے قوی امکانات ہیں. ڈاکٹر طاہر القادری اور ان کے حامیوں نے جو طریقہ کار اپنایا ہے وہ انتہائی شرمناک ہے. قادری صاحب کو چاہیے کے وہ افراتفری نہ پھیلائیں اور اپنے کارکنوں کو قانون ہاتھ میں لینے سے روکیں، یہ طریقہ ان کے مقصد کو حاصل کرنے میں مدد فراہم نہیں کرے گا".

آپ نے درست فرمایا رومی صاحب لیکن ان کا مقصد تو کچھ اور ہی لگتا ہے، جس میں سب کچھ جائز ہے.  

اس وقت افواج پاکستان ملک دشمنوں کے خلاف پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے اور یہ حضرت حکومت اور عوام کا دھیان بھٹکا کر ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے پر تلے ہوئے ہیں، مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ کیسے 'شیخ الاسلام' ہیں جو مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکا رہے ہیں. آخر یہ کیسا انقلاب ہے جو ملک کے اداروں کو آگ لگا رہا ہے.

پاکستانی عوام کا اگر اتنا ہی احساس تھا تو پچھلے سال مزاکرات کر کے بھاگ کیوں گئے؟

اور اگر عوام آپ کے ساتھ ہے تو انتخابات میں حصہ کیوں نہیں لیا؟ آپ انتخابات میں حصہ لے کر نظام درست کرتے نا، اس طرح سڑکوں پر چند ہزار مسلح کارکن نکال کر آپ پاکستان کی اکثریت کو آخر کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ ملک کی عوام کو ایک دوسرے سے لڑوا کر آپ کونسا انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں؟

حکومت گرانے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہےمارشل لا، جو قادری صاحب کا من پسند ہے، ایک بار پہلے بھی حضرت فوجی ڈکٹیٹر کا ساتھ دے چکے ہیں اور جمہوری حکومت کی بساط لپیٹنے میں اپنا کردار ادا کر چکے ہیں.

عوام ان کی "جی ڈی اے" کو نہیں بھولی اور نہ ہی ان کی ریفرنڈم کے لئے دی جانے والی خدمات کو بھولی ہے. اس وقت نظام درست کرنے اور ملک میں حقیقی جمہوریت لانے کا خیال ان کے دماغ میں نہیں آیا؟

اب جبکہ ملک میں ایک جمہوری حکومت قائم ہے تو ان کو دوبارہ نظام اور جمہوریت کا خیال آ گیا، یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ "نو سو چوہے کھا کے بلی حج کو چلی". یہ ملک میں حقیقی جمہوریت لانے کا دورہ جمہوری حکومتوں میں ہی کیوں پڑتا ہے؟  

مارشل لا پاکستان کی عوام کو کسی صورت قبول نہیں لہٰذا قبلہ سے گزارش ہے کہ انتظار کریں اور چار سال بعد کینیڈا کی شہریت ترک کر کے  پاکستان میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لیں اور کامیابی کی صورت میں پارلیمنٹ میں بیٹھ کر نظام ٹھیک کریں.

یہ بلاگ 13اگست 2014 کو ڈان اردو پر شایع ہو چکا ہے.

Wednesday, 6 August 2014

پاکستان یا متاثرستان

پاکستان یا متاثرستان   

تنویر آرائیں


ہٹ جاؤ، ایک طرف کو ہو جاؤ، راستہ دو، پھر نہیں کہنا کچلے گئے، زخمی ہو گئے، لگ گئی، ارے بھئی انقلاب آ رہا ہے ہوشیار باش!


انقلابیے اور تبدیلیے ملک میں سرگرم ہیں، لہٰذا عوام سے گزارش ہے کہ اپنے سامان کی حفاظت خود کریں ورنہ طعنے مت دینا کہ یہ ہو گیا وہ ہو گیا.


کیا کہا، حکومت؟ ارے بھائیو وہ آپ کی حفاظت کیسے کرے گی جو اپنی ہی حفاظت نہیں کر پا رہی، وہ تو بیچارے خوف کے مارے ادھر ادھر بھاگ دوڑ میں لگے ہوۓ ہیں کہ کہیں سے ان حکومت خور انقلابیوں اور تبدیلیوں کو روکنے کا توڑ مل جاۓ.


دیکھا نہیں کیسے مارے مارے سندھ میں بیٹھے انقلاب توڑ پیر کے پاس پہنچ گئے تھے اور پھر پاکستان کو چلانے والی دائی کے پاس، اب دو سو آموں کی پیٹیاں لے کر رشتےداروں سے ملنے.


دیکھو نا یہ بھی کوئی بات ہوئی کہ ایک طرف تو ملک میں جاری توانائی کے بحران پر قابو پانا مشکل ہے، جس پر ضابطے کے لئے عوام کو بارش کی دعاؤں پر لگا دیا ہے. دوسری طرف انقلابیے اور تبدیلیے اپنی اپنی مرلیاں بجا بجا کے میاں صاحبان کا جینا مشکل  کیے جا رہے ہیں.


اب ایسا بھی کیا ہو گیا جو اگر میاں صاحبان کے انتخابی نعرے پورے نہیں ہوئے، ہاں ہاں انہوں نے کہا تھا کہ بجلی کا بحران چھ مہینوں میں، پھر ایک سال، بعد میں ڈیڑھ سال میں ختم نہ کیا تو اسکا نام بدل دینا، اب ٹھیک ہے جوش خطابت میں کہہ ہی دیا تو کیا "کیا بچے کی جان  لو گے"!؟


اس سے پہلے آنے والے کون سا عوام سے کیے ہوئے وعدے پورے کرتے رہے ہیں، انہوں نے نہیں کیے تو کیا قیامت برپا کر دی.

جی بالکل! انہوں نے زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹنے کی بات کی تھی، ابھی وقت ہی کتنا ہوا ہے ان بیچاروں کی حکومت کو بنے ہوئے، صبر تو کرو سب ہو جاۓ گا، اگلی حکومت میں، ارے بھئی اب انقلاب توڑ پیر کے پاس چلے ہی گئے تو کیا غلط کر دیا؟


دیکھو یار پچھلی دفعہ جب انقلابی کنٹینر آیا تھا تو انہوں نے بھی تو پورے ملک کی اپوزیشن اکٹھا کی تھی نا حکومت بچانے کے لئے، تو اب کیا ان کو میاں صاحبان کا ساتھ نہیں دینا چاہیے؟


جی مجھے یاد ہے کہ میاں صاحب نے 5 جون 2013 کی تقریر میں فرمایا تھا کے اقربا پروری اور بے جا نوازشات کا باب بند کر دیں گے، چلو خیر ہے جو انہوں نے اپنے دو درجن رشتےداروں کو بڑی منسٹریاں اور خاص عہدے دے کر نواز ہی دیا، بھلا حکومت میں ہوتے ہوئے اپنوں کو نوازیں بھی نا؟


دیکھیں بھائی تبدیلی یہ ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے اپنے ہاتھوں سے  167 بلین واپس جانے دیے یا 35 بلین ڈولپمینٹ کے لیپس ہو گئے، اب بھلا جب دھاندلی کی حکومت مرکز میں ہو یا پورے پاکستان میں سواۓ خیبر پختونخوا کے، تو بھلا پیسوں کو ترقیاتی کاموں میں خرچ کر کے کیا فائدہ، دوسری بات یہ کہ اگر یہ پیسا ہوتا تو دھیان وہیں لگا رہتا، ایسے میں جلسوں کا کیا ہوتا؟ ظاہر ہے ٹھیک نتیجہ  نہیں دے پاتے نا، پھر بھلا حکومت کیسے جاتی؟

کیا! متاثرین کی بات کررہے ہو؟


اب یہ بھی کوئی بات ہے کرنے والی، ایویں ہر بات کو اشو بنا لیتے ہو پہلی بات کہ پاکستان بننے سے لیکر اب تک کتنے حادثات و قدرتی آفات کے نتیجے میں لوگ متاثر ہوئے ہیں؟ کیا سب کو حکومت سمبھالتی رہی ہے؟


یاد کرو گزشتہ حکومت میں آنے والے سیلاب اور بارشوں میں جو لوگ متاثر ہوئے تھے ان کو راشن کے نام پر کیسے لاٹھیاں پڑیں تھیں اور راشن کارڈ کیسے ملے تھے. تھر کو کیا بھول گئے جس میں اعلانات تو ہوئے تھے ملا کیا یہ آج تک پتا نہیں چل سکا. اس حکومت میں متاثرین کو لاٹھیاں تو نہیں نہ پڑیں، اب اگر دو چار متاثرین کو پولیس والوں نے بلیک میل کر کے لوٹ ہی لیا تو اتنا ہنگامہ کرنے کی کیا ضرورت ہے، دوسری بات یہ کے خیبر پختونخوا حکومت جو کر رہی ہے وہ اس کی مہربانی ہے، وزیرستان ان کے انڈر تھوڑی نہ آتا ہے.


ایک بات اور، اس ملک میں تو متاثرین ہی متاثرین ہیں ایک حکومت کس کس کو سنبھالے؟


کوئی پولیس سے متاثر، کوئی عوامی نمائندوں سے متاثر، کوئی وڈیروں جاگیرداروں سے متاثر تو کوئی بھوک، بیروزگاری، دہشتگردی، بھتے کی پرچوں سے متاثر، صحت کی سہولیات، تعلیمی نظام سے متاثر اب بھلا کس کس متاثر کو سنبھالا جاۓ، ایسا لگتا ہے یہ ملک متاثر خانہ ہے.


رہی بات قادری صاحب کی تو یار پاکستانی عوام بھی بڑی احسان فراموش ہے. اس قوم کے نصیب کو سنوارنے کے لئے وہ کینیڈا سے یہاں تک تشریف لاۓ یہ کیا کم ہے؟ کیا ہوا جو پچھلی بار مزاکرات کر کے چلے گئے، کوئی پہاڑ تو نہیں ٹوٹ گیا اور کیا آپ آئین وائن کی باتیں کر رہے ہو مولانا صاحب نے اتنی کتابیں لکھی ہیں کیا آئین پر ایک آدھ کتاب نہیں لکھ سکتے؟  

دیکھو بھائیو گزشتہ کئی دہائیوں سے آپ انقلاب دیکھتے آئے ہو، کبھی مارشل لا لگا کے انقلاب لایا گیا، کبھی سول مارشل لا نافذ کر کے، کبھی آئی جے آئی بنا کے، کبھی لاشیں گرا کے، کبھی مادر ملت کو ہرا کے، تو کبھی جہازوں کو ہائی جیک کرا کے.

اس کے علاوہ بھی کئی انقلاب اس ملک میں برپا ہوتے رہے ہیں مثال کے طور پہ دہشتگرد بنا کے، کیمپوں میں بھوکا مروا کے، یا پاکستان تڑوا کے. اب اتنے انقلاب تو دیکھ چکے ہو ایک آدھ نئی قسم کا انقلاب اور آ رہا ہے تو چیخ  پکار کیسی.


دیکھو بھئی انقلاب توڑ پیر کا نام تو مت لینا، اگر انہوں نے کہہ ہی دیا ہے کہہ میاں صاحب کو وزیراعظم بنایا ہے بادشاہ نہیں تو اس بیان کو اتنا سنجیدگی سے نہ لیں آخر تحریک انصاف کو 14اگست والی دھما چوکڑی سے روکنے کے لئے میاں صاحب کی مخالفت تو کرنی ہے نہ، اب اس کے لئے پیپلز پارٹی کے ایک سینئر رہنما کو لگا دیا ہے تو اس میں حرج ہی کیا ہے. اگر ایسا نہیں کریں گے تو آپ لوگ کہو گے کے جی انہوں نے "چارٹر آف ڈیموکریسی" پر عمل نہیں کیا.


آپ خوامخواہ حکومت پر تنقید کیے جا رہے ہیں، کتنا کام کر رہی ہے حکومت، دیکھو ڈالر 98 پر لے آئی. اب حکومت کیا کرے اگر اشیاء کی قیمتوں میں کمی نہیں آئی یا عوام کو ریلیف نہیں ملا.

آلو مہنگے ہو گئے تو شور مچا رہے ہو آلو نہیں ہیں، بھئ  شکر قندی کھا لو، آخر ملک مسائل میں گھرا ہوا ہے کچھ تو کمپرومائز آپ کا بھی فرض بنتا ہے نا، شاہ صاحب نے پچھلی حکومت میں نہیں کہا تھا کہ ڈبل روٹی سے کام چلاؤ.


بجلی کے لئے دیکھو نندی پور سمیت کتنے پروجیکٹ لگاۓ جا رہے ہیں اب یہ اور بات ہے کے افتتاح کے دو دن بعد وہ بند ہو گیا اب میاں صاحب خود تو نہیں جا کے مشینیں ٹھیک کر سکتے.

عابد شیر علی بیچارے کا دیکھو کیا حال ہو گیا ہے، گرمی میں اس کا رنگ بھی پھیکا پڑگیا ہے، اتنا کام تو کر رہا ہے اب اگر آپ کو فرق محسوس نہیں ہو رہا تو کیا وہ کھمبوں پر چڑھ جاۓ؟


خواجہ سعد رفیق بھی تو ٹرینوں کی مرمت اور سسٹم میں بہتری کے لئے کوشاں ہے اب انجن خود کھولنے سے تو گیا، یہ کام کرنے لگ جاۓ گا تو تبدییلے اور انقلابیے کو جواب کون دے گا.


اتنے بڑے بڑے کام کر تو رہی ہے حکومت؛ دیکھو میٹرو بھی دے رہے ہے گرین لائن بھی، اب اگر ٹوبہ ٹیک سنگھ میں لوگ چنگچی میں ٹھس ٹھس کر سفر کر رہے ہیں تو اس میں حکومت کا کیا قصور؟

یہ بلاگ 2 اگست 2014 کو ڈان اردو پر شایع ہو چکا ہے.

Sunday, 20 July 2014

کیا یہ توہین مذہب نہیں؟

کیا یہ توہین مذہب نہیں؟

تنویر آرائیں


جہاں موقع ملے لوٹ لو، جو چیز ہاتھ لگے روند ڈالو، جو ملے بیچ دو، فکر مت کرنا، پریشان مت ہونا اور گھبرانا تو بالکل نہیں، کوئی نہیں پوچھے گا، احتساب کا تو سوال ہے پیدا نہیں ہوتا.


کیا؟ سوال اٹھیں گے، ابے پاگل! ایسے تو بکری میں اور اضافہ ہوگا. "بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا!".


رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ شروع ہو چکا ہے، یکم رمضان سے ہی ہماری میڈیا اسکرینوں پر یلغار سی نظر آ رہی ہے، افطاری کی کھجور سے لیکر سحری کے دہی تک سب کچھ اسکرینوں پر ہی بک رہا ہے، بیچارے ریڑھی والے منہ تک رہے ہیں کہ بھئی ہم کہاں جائیں. جناب آپ لوگ بھی تکّا لگائیں، ورنہ ایسے ہی گھر کو جائیں، دیکھا نہیں اسکرینوں پر تکّے لگاۓ جا رہیں ہیں.


پاکستانی اشرافیہ فوٹو سیشن کے چکر میں سب بھول بھال جاتی ہے کہ اخلاقیات، احترام، شرم و حیا بھی کوئی چیز ہے، متاثرین میں امداد بانٹنی ہو یا طالب علموں میں لیپ ٹاپ کی تقسیم فوٹو سیشن تو بنتا ہے نا!

ہم اپنے سیاستدانوں کو پتا نہیں کیا کیا کہتے پھرتے ہیں، ایسے فوٹو سیشنز کو لیکر باتوں کا ایسا بتنگڑ بناتے ہیں کہ لیپ ٹاپ یا دی ہوئی امداد بھی شرمانے لگتی ہے، پتا نہیں کہاں کہاں سے نکال نکال کے ایسے جملے کسے جاتے ہیں کہ ایسی صورتحال تو انڈیا پاکستان کے کرکٹ میچ میں بھی دیکھنے کو نہیں ملتی.


حضور، اب جب یہی کام ہماری اسکرینوں پر بیٹھے "گوالیے" کر رہے ہیں تو زبان کو تالے کیوں لگ گئے؟ اب آپ کی لغت کہاں گم ہو گئی؟ اشاروں میں بات کیوں کر رہے ہو؟ نواز شریف، زرداری کا نام تو بڑے فخر سے لیتے ہو اب کیا ہوا، سکتہ کیوں طاری ہو گیا؟


ملک کو لوٹ لیا، ملک کو کھا گئے، عوام کا ستیاناس کر دیا، ملکی معیشیت تباہ کر دی، ایجنٹ، غدار کے بلند و بانگ نعرے لگانے والو اب کہاں سو گئے تم لوگ؟ جب مذھب کو لوٹا جا رہا ہے، دین کو بیچا جا رہا ہے، رمضان کی حرمت کو رسوا کیا جا رہا ہے، عوام کو شکوک و شبہات میں ڈالا جا رہا ہے، فرقوں کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، قران پاک جیسی بابرکت کتاب کا تقدس پامال کیا جا رہا ہے، اب آپ کی زبان پر چھالے کیوں پڑ گئے ہیں؟


عقل و فہم گیا اور گوالے آ گئے،  کیوں نہیں بتایا جا رہا کہ ریٹنگ کی بھوک مذہب کو بھی نگلنے کے لیے تیار ہے، یا یہاں بھی منافقت کرو گے کہ جناب 'صدقہ جاریہ' ہے.

میک اپ سے لدے ہوۓ اب عوام کو شریعت بتا رہے ہیں، ذرا یہ تو بتاؤ کہ دین کی تبلیغ کے لئے میک اپ کی ضرورت کیوں آن پڑی، دلیلیں ایسی ایسی کہ بندہ دنگ رہ جاتا ہے کہ یہ کیا مثال ہے. ایک صاحب افطاری کے وقت عقل کو 'کھسرا' (خواجہ سرا) ہونے کی دلیل دے رہے تھے اور فرما رہے کہ جب عقل 'کھسرا' ہوتی ہے تو گناہ ہوتا ہے! کم سے کم میں تو اس دلیل کو بےتکا اور کم عقلی سمجھوں گا!


نام دین کا کام پیٹ کا، بھلا یہ کیسی تبلیغ ہے کہ درود پاک چل رہا ہو اور اچانک دھڑام سے شربت کا اشتہار چلنا شروع ہو جاۓ، ملک میں لاتعداد 'فتویٰ فیکٹریاں' ہیں، کوئی بھی مسئلہ ہو آپ  آسانی سے فتویٰ حاصل کر سکتے ہیں، جیو پر مارننگ شو میں  ایک قوالی پر توہین کا فتویٰ صادر کرنے والے اب کہاں گم ہو گئے؟


کیا دکھائی نہیں دے رہا کس طرح اسکرین پر میک اپ سے لدھے ھوۓ گوالیے دین کی توہین کر رہے ہیں؟ درود پاک کو کاٹ کر شربت کا اشتہار توہین مذہب نہیں؟


جناب دین تو ہمیں سکھاتا ہے کہ خیرات ایسے کرو کہ دوسرے ہاتھ کو بھی  پتا نہ چلے، یہاں کیا ہو رہا ہے خیرات کے  نام پر، محض دکھاوا!


کرتے بیچنے والے اب دین کو بیچنے میں مصروف ہیں، جس طرح کرتے بیچتے ہوئے ایمانداری، سچائی اور قیمت پر گاہک سے غیر اخلاقی مکالمہ کیا جاتا ہے اسی طرح اب یہ لوگ دین کو بیچتے ہوئے اخلاقیات، احترام، رواداری کو بالاۓ طاق رکھ چکے ہیں، ڈسکو قسم کے گوالئے عوام کے جذبات کو ابھارنے کے لئے ہر قسم کی ڈگڈگی بجانے کو تیار ہیں، اپنی اس کوشش کے لئے قران و حدیث کی حرمت کو بھی رسوا کیا جا رہا ہے، کیا دکان داری چمکانے کے لئے دین کا استعمال توہین مذہب نہیں؟


کون بتاۓ گا، کون سنے گا، کس کی ذمّہ داری ہے کہ دین کو بیچنے اور اس کا ناجائز استعمال ہونے سے روکے؟ دین کی حرمت کو بچانا کس کی ذمّہ داری ہے، حکومتی نمائندگی کے لئے تو آئین کا آرٹیکل 62,63 موجود ہے، ان گوالیوں کے لئے سرحدوں کا تعین کون کرے گا.


جعلی ڈگری والے بھائی صاحب عجیب و غریب ڈرامے کر رہے ہیں، مفتی صاحبان کو بلا کر اور سوالات کے جوابات کے حصول کے نام پر پتا نہیں کیا کیا کر رہے ہیں، سیدھی سی بات ہے، دومختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے ایک  دوسرے سے کیسے متفق ہوں گے حضور!؟  اس سے پہلے بھی ان حضرت کے 7 ستمبر 2008 کے پروگرام کے بعد ایک فرقے کے دو افراد کو قتل کردیا گیا تھا۔ اس دفعہ پتا نہیں ان کی یہ نئی خرافات کیا رنگ لائی گی.


ایک مسلمان دوسرے پر کفر کے فتوے لگا رہا ہے ایسے ماحول میں اس کو طول دینا فرقہ واریت کی آگ کو مزید بھڑکانا، جلتی پر تیل چھڑکنے جیسا نہیں ہو گا؟ مگر انہیں کیا، لوگ مرتے ہیں تو مریں، کٹتے ہیں تو کٹیں، لڑتے ہیں تو لڑیں، ان کا دھندا تو ترقی کر رہا ہے نا، بس تو پھر کیا!
یہ لوگ تو موچی اور درزی سے بھی گئے گزرے ہیں وہ تو گانٹھنے کا کام اچھائی کے لئے کرتے ہیں یعنی دھندے میں بھی سلیقہ، جبکہ یہ لوگ دھندے میں بھی بی ایمانی. ذرا یو ٹیوب پر ان حضرت کی ویڈیو ملاحضہ فرما لیں سب سمجھ میں آ جاۓ گا. لڑکیوں کے ہاسٹل میں چھپنے والے کی حقیقت آپ سے چند بٹن کی دوری پر ہے. دیویاں اور دیوتا بنانے سے قبل ذرا انگلیوں کو حرکت دے کر دیکھ لیں.


بھوک کا مارا بچّھ تو سیٹی کی آواز پر بھی چپ کر جاتا ہے بھلے دودھ کی بوتل گھنٹے بعد ملے، بھوک و افلاس اور بیروزگاری کے ہتھے چڑھی ہوئی عوام کے لئے لگایا جانا والا آپ کا تماشا بھی توجہ کیوں کر حاصل نہ کرے.


ہم قدیم روم کے بادشاہوں کو ظالم و وحشی لکھتے ہیں کیوں کہ وہ گلیڈی ایٹر کا کھیل کرواتے تھے، عوام اس کو دیکھ کر بھوک بھول جاتی تھی، لیکن آپ تو ان سے بھی نمبر لے گے! آپ نے تو اپنے دھندے کی خاطر دین کو ہی صابن، تیل، ٹوتھ پيسٹ کے ساتھ بیچنا شروع کردیا!! کہاں ہیں غیرت والے!!؟؟


اور کہاں ہے پیمرا؟ ویسے تو ذرا ذرا سی بات پر 'نوٹس' لے لیا جاتا ہے، اب کیوں سانپ سونگھ گیا؟ زیادہ سے زیادہ منافعے کے لئے ان 'فار پرافٹ' تفریحی اور نیوز چینلوں پر مذہب کے اس بےشرمی سے استحصال کا نوٹس کیوں نہیں لیا جا رہا آخر؟

حالیہ چند مہینوں میں تو خاص طور پر یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ جب تک تفریحی ٹی وی چینلوں پر مذہبی پروگرامنگ ہوگی، اس کا فائدہ اٹھا کر شر پسند عناصر اپنے ذاتی اور پیشہ ورانہ فائدوں کے لئے بات کا بتنگڑ بنا کر ہماری 'جذباتی' عوام کے جذبات مشتعل کرتے رہیں گے. جیسا کہ جیو، اے آر وائی اور سما کے ساتھ ہوا.


پاکستانی قانون بھی عجیب قسم کی چیز ہے، یہاں فوج و قومی سلامتی کے معاملات پر تو چینل بند ہو جاتا ہے لیکن دین کو دھندے کے لئے استعمال کرنے پر کوئی روک ٹوک نہیں. پیمرا کو چاہیے کہ تمام نیوز و انٹرٹینمنٹ چینلز پر دھندے کی غرض سے کیے جانے والے مذہبی پروگرامز پر مکمّل پابندی عائد کرے، کیوں کہ موجودہ پروگرامز سے دین کو سمجھنے اور سیکھنے کے بجاۓ انتشار پھیل رہا ہے.


دین کمائی کے لئے نہیں بنا! براۓ خدا ان فار-پرافٹ 'تفریحی چینلوں' پر مذہب کا کاروبار بند کروائیں! دین کی بات کرنی ہے تو اس کے لئے مخصوص نان-پرافٹ چینلز ہونے چاہئیں، جہاں کسی قسم کی اشتہار بازی کی قطعی اجازت نہیں ہونی چاہیے.


ساتھ ساتھ، ایڈورٹائیزرز پر بھی سخت پابندی ہونی چاہیے کہ اپنی پروڈکٹس بیچنے کے لئے بناۓ جانے والے اشتہاروں میں مذہبی علامتوں اور استعاروں سے قطعی گریز کریں.    


میں نے تو سوچا تھا کہ امیر المومنین مولانا ضیاء الحق نے دین کی جو خدمت فرمائی ہے اس کے بعد تو کوئی دین بیچ ہی نہیں سکتا لیکن افسوس کہ میں غلط ثابت ہوا، دین کے ساتھ نام نہاد آزاد میڈیا کا کھلواڑ دیکھ کر تو وہ بھی شرما جاتا.


عوام کے لئے ایک شعرعرض ہے؛



دستار کے ہر تار کی تحقیق ہے لازم
ہر صاحب دستار معزز نہیں  ہوتا



"یہ بلاگ 15جولائی 2014 کو ڈان اردو پر شایع ہو چکا ہے "

Monday, 7 July 2014

پاکستانی رمضان





دنیا کے تمام ملکوں میں مذہبی تہوار بڑے جوش و جذبے سے مناۓ جاتے ہیں. خوب عبادات ہوتی ہیں.
ہندو مذہب میں "نوراتری" بڑے جذبے سے منائی جاتی ہے اس تہوار کے موقعے پر ہندو مذہب کے لوگ روزے رکھتے ہیں، پرشاد بانٹتے ہیں، دکانوں اور بازاروں میں اشیاۓ خورد و نوش کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی دیکھنے کو ملتی ہے. دیگر اشیاۓ ضروریات مثَلاً کپڑا، جوتے وغیرہ کی قیمتوں میں بھی اچھی خاصی کمی دیکھنے کو ملتی ہے، اور لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ کم سے کم منافعے پر اشیاۓ ضروریات فروخت کریں، تاکہ وہ اپنا مذہبی فریضہ بھی پورا کرے اور معاشرتی بھی.
بالکل اسی طرح کرسمس، ایسٹر، ہولی، دیوالی یا دیگر مذہبی تہواروں میں ہم دیکھتے ہیں کہ شاپنگ سینٹرز یا عام بازاروں میں قیمتیں بالکل نیچے اتر آتی ہیں، خصوصی مارکیٹس لگتی ہیں جن میں کم قیمت اشیاۓ ضروریات رکھی جاتی ہیں، ایسی مارکیٹیں حکومت کی طرف سے بھی لگائی جاتی ہیں، جبکہ نجی کمپنیاں بھی اسے اپنا مذہبی و معاشرتی فریضہ سمجھتی ہیں.
دنیا میں پائے جانے والے مسلمان ملکوں میں بھی مذہبی تہواروں کے دوران جوش و خروش پایا جاتا ہے خصوصا رمضان میں تمام مسلمان یا غیر مسلمان ملکوں میں اشیاۓ خورد و نوش و ضروریات کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی نظر آتی ہے. غیر مسلمان ملکوں میں جہاں بھی مسلم آبادی کثیر تعداد میں پائی جاتی ہے وہاں رمضان میں قیمتیں انتہائی نیچے آ جاتی ہیں.
نئے سال کی آمد پر آسٹریلیا میں لوگ اپنا ساز و سامان تبدیل کرتے ہیں، پرانا سامان گھرکے باہر فٹ پاتھ پر رکھ دیا جاتا ہے تا کہ کوئی بھی ضرورت مند اسے اپنے استعمال میں لا سکے، کئی ضرورت مند اس عمل سے مستفید بھی ہوتے ہیں، جبکہ اس عمل سے کسی کو احساس کمتری بھی نہیں ہوتا، یہاں تو دس روپے کی نیاز بھی کم سے کم دس لوگوں کے علم میں لا کر تقسیم کی جاتی ہے.
رمضان گو کہ ساری مسلم دنیا میں اسلامی ٹریننگ کا مہینہ گردانا جاتا ہے جس میں اسلامی فریضے، اسلامی تعلیمات میں خود کو ڈھالنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے اور یہ ٹریننگ کی جاتی ہے کہ سال کے بارہ مہینے یہی روایات اپنائی جایئں.
اس مہینے میں ٹریننگ کی جاتی ہے کہ نماز کی پابندی کو اپنایا جاۓ، زکوات، صدقہ و خیرات دی جایئں، اسلامی تعلیمات پر عمل کیا جاۓ. صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا جاۓ، برداشت کا مادہ پیدا کیا جاۓ عدم برداشت کو ترک کیا جاۓ. رواداری، کینہ شکنی، جھوٹ سے پرہیز، صلہ رحمی، وغیرہ کی خاص تربیت کو اپنانے کا درس دیا جاتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ یہ سب گن اپنا کے اللہ رب العزت کی بے شمار نعمتیں و رحمتیں لوٹنے کا موقع ملتا ہے جس سے بھر پور فائدہ اٹھایا جاتا ہے.
نماز و تراویح کے ذریعے اپنی صفوں میں اتحاد قائم کرنے کا بھرپور موقع ملتا ہے. روزہ کی بھوک برداشت کر کے خود کو قابل برداشت بنانے کا موقع بھی اسی ماہ بابرکت میں ملتا ہے.
ساری دنیا میں جہاں بھی مسلمان بستے ہیں اس ماہ میں مذہبی تربیت حاصل کرتے ہیں اور جتنا ہو سکے خود کو گناہوں سے دور رکھنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں.
پوری دنیا کے نقشے پر فقط پاکستان ایسا ملک ہے جس میں رمضان کا بڑی بے صبری سے انتظار کیا جاتا ہے، اور یہ مہینہ شروع ہوتے ہی رمضانی مینڈک باھر آ جاتے ہیں اور لوٹ مار کا بازار گرم کر دیتے ہیں، باقی دنیا میں بھی اس مہینے میں لوٹ مار ہوتی ہے لیکن وہ مسلمان رحمتیں لوٹتے ہیں ہم مسلمانوں کو لوٹتے ہیں، ساری دنیا میں اشیاۓ ضروریات کی قیمتیں کم سے کم تر ہو جاتی ہیں جبکہ اس کے برعکس پاکستان میں رمضان کریم کا مہینہ شروع ہوتے ہی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں، زخیرہ اندوز مافیا سر اٹھا کے نکل آتی ہے اور خوب لوٹ مار کا بازار گرم کرتی ہے، اس ماہ بابرکت میں پاکستان کے ہر دکاندار، ریڑھی والے، چھابڑی والے، دھوبی، درزی یہاں تک کے گداگر بھی لوٹ مار میں مشغول ہو جاتے ہیں، جس کو جتنا موقع ملتا ہے لوٹتا ہے، کیوں کہ ان کو پتا ہے کہ یہ دن سال بعد آنے ہیں.
ہوس نے لوگوں کو اندھا کر دیا ہے، گداگر بھی رمضان میں کسی سے پیچھے نہیں رہتے وہ بھی اپنی بستیوں سے نکل کر بڑے بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں، پاکستان میں تو انٹرنیشنل گداگر بھی پاۓ جاتے ہیں جو رمضان میں بیرون ممالک کا رخ کرتے ہیں خاص طور پر مڈل ایسٹ کے ممالک میں ان کی خاصی تعداد جاتی ہے کوئی عمرے کا ویزا لے کر تو کوئی زیارتوں کا اور وہاں جا کے خوب کماتے ہیں، ہم لوگوں نے تو رمضان کو بھی ذریعہ معاش بنا لیا ہے.
پاکستان میں تو رمضان کو بھی بیچا جاتا ہے، سحری سے لیکر افطاری تک فجر سے لیکر تراویح تک، ہر چیز کو بیچا جاتا ہے، مداری قسم کے لوگ جنہیں "رمضانی مینڈک" بھی کہا جا سکتا ہے اسکرینوں پر براجمان ہو جاتے ہیں اور مسلمانوں کو تکا لگانے کی تلقین کرتے ہوے نظر آتے ہیں.
موبائل فون اور ڈنر سیٹ تو بہت بڑی چیز ہے یہاں تو بریانی کی پلیٹ پر بھی ہجوم لگ جاتا ہے، تیس دن کی ہر ایک چیز کو کمرشل بنا دیا جاتا ہے، ہم ایسی قوم ہیں جو مذہب کو بھی بیچ دیتے ہیں کیوں کے ہم جانتے ہیں کہ دو چیزوں پر ہی دنیا میں لوٹ مار مچی ہوئی ہے؛ ایک مذہب اور دوسرا وطن.
ہم دونوں کو خوب بیچتے ہیں، رسوا کرتے ہیں، کیوں کہ بیچتا تو وہ نہیں ہے جس کا ایمان ہو، ہم نے تو سب سے پہلی واردات اپنے ایمان کو بیچ کر ڈالی ہے، مسجدوں سے لیکر فرقوں تک ہر چیز کو بیچنے کا ہم لوگ ریکارڈ رکھتے ہیں، ہم نے کبھی دین کو اپنے پیٹ پالنے کے لئے بیچا کبھی دوسرے کا پیٹ کاٹنے کے لئے بیچا.
اسکرینوں پر جلوہ گر ہونے والے اپنی دکان کو چمکانے کے چکر میں اخلاقیات وغیرہ سب بھول جاتے ہیں، کہیں بچہ گفٹ کر کے دین کو رسوا کیا جاتا ہے تو کہیں فرج اور واٹر کولر کا استعمال کیا جاتا ہے، جس کو خدا نے اولاد کی نعمت سے نہیں نوازا اسے ان جیسے مداری کیا نواز سکتے ہیں، بے شک، میرا رب بہتر فیصلے کرنے والا ہے، یہ لوگ اس مداری کھیل سے کوئی ثواب نہیں کما رہے بلکہ اپنے پیٹ پالنے لے لئے ایسے شرمناک کھیل کر رہے ہیں.
رمضان میں سحری اور افطاری کے دو وقت میں جرائم کی وارداتوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے، جرائم پیشہ عناصر اس وقت کا تعین اس لئے کرتے ہیں کیوں کہ اس وقت روزے دار اپنے کام میں مصروف ہوتے ہیں. اس ماہ بابرکت میں ہم لوگ سحری اور افطاری کے وقت کا بھی بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں، اور بھلا جرائم پیشہ افراد فائدہ کیوں نہ اٹھائیں جب سب طبقات اپنے اپنے دھندے کو اس ماہ میں چمکانے میں لگے ہوئے ہیں اور سب کی چاندی ہے تو یہ کیوں کر پیچھے رہیں.
پاکستان میں کم و بیش ہر بندہ رمضان میں واردات ڈالنے کے مواقع تلاش کرتا نظر آتا ہے اربوں سے لیکر سیکڑوں تک کے وارداتیے پاکستان میں اس ماہ میں کثیر تعداد میں پاۓ جاتے ہیں، سستے بازاروں کے نام پر واردات، یوٹیلیٹی اسٹورز کے نام پر واردات، سبسڈی کے نام پر واردات، تبلیغ کے نام پر واردات اور پھر رویا جاتا ہے کہ برکت نہیں.
ہمارے ہاں تو روزہ رکھنے والے افراد بھی عجیب واردات کرتے ہیں، جو شخص روزہ رکھتا ہے وہ دوسروں پر دھونس جماتا ہے، خاص طور پر سرکاری ملازمین کا رویہ دیکھنے جیسا ہوتا ہے جو خود کو روزے دار ثابت کرنے کے انیک حربے استعمال کرتا ہے. روزے کی بنیادی تعلیم 'برداشت' کو تو ایسے خوبصورت انداز سے نبھاتے ہیں کے اس کی تو نظیر نہیں ملتی، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے روزہ رکھ کر کسی پر احسان کیا جا رہا ہے.
اس ماہ میں حکومتیں خصوصی سبسڈی دیتی ہے اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لئے خصوصی کمیٹیاں بنائی جاتیں ہیں جو قیمتوں پر نظر رکھتی ہیں، یہاں بھی ایسے کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں، لیکن وہ بھی اپنا اصل کام چھوڑ کے واردات کرنے کے درپے ہوتی ہیں، کہیں واردات ہو تو ان کو بھی واردات کا موقع ملے.
باقی سب باتیں تو چھوڑو میاں صاحب آپ صرف آلو کی قیمت پر ہی ضابطہ لے آئیں، آپ کے وزیر صاحب نے تیس روپے فی کلو کی بات کی تھی وہی قیمت مقرر کروادیں آپ کی پاکستان کی "وارداتیاتی" قوم پر وارداتی مہربانی ہو گی. لیکن مجھے پتا ہیں یہ حسین واردات حکومت کے بس کی بات نہیں کیوں کہ وہ تو کسی اور ہی واردات کے چکر میں ہیں.

Wednesday, 2 July 2014

آئی ایم یو اور کراچی ایئر پورٹ

تنویر آرائیں


دنیا کے تیسرے بڑے شہر کراچی میں واقع انٹرنشنل ایئرپورٹ کو اتوار کی شب دہشتگردوں نے پانچ گھنٹے یرغمال بناۓ رکھا، دس دہشتگرد ٢٥٠٠ سیکیورٹی اہلکاروں سے مقابلہ کر رہے تھے، پانچ گھنٹوں کے طویل مقابلے کے بعد دس دہشتگرد اور سکیورٹی اہلکاروں سمیت ٢٣ لوگوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی. جس کی بعد سے میڈیا مسلسل یہی رٹ لگائے جا رہی ہے کی کامیاب آپریشن سے ہم نے دہشتگردوں کا قلع قمع کردیا، میڈیا پر عجیب سے گن گئے جا رہے ہیں عجیب و غریب تجزیے ہو رہے ہیں جن کا نہ کوئی سر ہے نہ پیر ، قوم کو جھوٹ فیڈ کیا جا رہا ہے اور پاکستانی عوام کے دماغ سے اس آپریشن کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کو غائب کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے، ہاں جی ہاں ! ہم مانتے ہیں کے ای ایس ایف کے اہلکاروں نے بڑی دیدہ دلیری سے دہشتگردوں کا مقابلہ کیا اور قومی اثاثوں کی حفاظت کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، رینجرز پولیس اور فوج نے بھی بڑی پھرتی دکھائی، مگر آخر یہ لوگ تھے کون جو دس کی اعداد و شمار میں تھے اور ٢٥٠٠ پر بھاری پڑ رہے تھے اور تقریبا پانچ گھنٹوں تک ہماری سیکورٹی فورسز کو الجھائے رکھا اور ان سے مقابلہ کرتے رہے. رن وے پر کھڑے جہازوں کو بھی نشانہ بنایا ہماری سیکورٹی فورسز کو بھی اور املاک کو بھی اور آخر میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے.
ایئر پورٹ پر  حملہ ہوتا ہے ، دس دہشتگرد اے ایس ایف کی وردیوں میں ملبوس، اے ایس ایف کے کارڈ آویزاں کر کے ایئر پورٹ کے اندر گھس جاتے ہیں، اور باقاعدہ پلاننگ سے اپنے ہدف کی جانب بڑھتے ہیں، ان کے حملے کے طریقے سے لگتا ہے کے ایک ایک چیز کے بارے میں انھیں مکمل معلومات تھی، حملہ ہو گیا، دہشتگرد مارے گئے، آپریشن کامیاب قرار دیا گیا، مگر یہ سوال نہیں اٹھایا گیا کے ان دہشتگردوں کو اتنی معلومات کہاں سے فراہم ہوئی؟ کوئی بھی اس پر تبصرہ کرنے کو تیار نہیں کے آخر یہ حملہ کس کی ناکامی ہے اور اس کا ذمیوار کون ہیں، کیوں اس ممکنہ حملے کی پیشگی اطلاعات کی باوجود اسے ناکام نہی بنایا گیا؟ انٹیلی جنس اس حملے کی بارے میں پہلے ہی صوبائی گورنمنٹ کو آگاہ کر چکی تھی، کیا یہ انٹیلی جنس ایجنسیز کی ناکامی ہے یا صوبائی گورنمنٹ کی؟ آخر ان سب نقاط پر تبصرہ کیوں نہی ہو رہا؟ تحریک طالبان پاکستان میں گروپ بندی کی اطلاعات موجود تھیں، پھر بھی اتنی غفلت کیوں؟ جب کے وہ لوگ یہ کہہ چکے تھے کے ہم حملے کریں گے، پھر بھی اتنی سستی کیوں؟ اور سب سے اہم بات یہ کہ کس کامیابی کی رٹ لگاۓ جا رہے ہیں ہم، اگر اس حملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جاۓ تو وہ لوگ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے ہیں ہم نہیں، انہوں نے ساری دنیا پر یہ ظاہر کر دیا کے وہ کہیں بھی کسی بھی جگہ داخل ہو سکتے ہیں، خود سے کئی گنہ زیادہ تعداد سے مقابلہ کر سکتے ہیں، اور آسانی سے اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی پیغام دنیا بھر کو دے دیا کے ہم کتنے کمزور ہیں، ہماری حکومتوں کتنی بے بس اور حکمران کتنے لاچار ہیں.
باغیوں کی یہ ٹولے ساری دنیا میں بکھرے ہوۓ ہیں کہیں یہ بوکو حرام کی نام سے جانے جاتے ہیں کہیں القاعدہ تو کہیں تحریک طالبان، ان کی باغیت پر اگر ہم تبصرہ کریں تو یہ سسٹم سے باغی لوگ ہیں جو کے اپنی اپنی ریاستوں میں شریعت کے نفاذ کی بات کرتے ہیں،لیکن شریعت کوئی بلدیاتی قانون یا اٹھارویں ترمیم نہیں اور مارشل لا بھی نہیں ہے جسے نافذ کیا جا سکے، بندوق کے زور پر یا زبردستی ہم کسی کو منافق تو بنا سکتے ہیں لیکن مومن نہیں ، ان کی نظر میں فرسودہ نظام کا خاتمہ ان کے مشن میں شامل ہے، باغیوں کا اگر ہم تاریخی جائزہ لیں تو معروف محقق و مورخ ڈاکٹر اقبال احمد باغیوں پر تبصرہ کرتے ہوے لکھتے ہیں کہ "سرمائیدارانہ اور صنعتی دور سے قبل قبیلائی نظام میں جو باغی ہوتے تھے وہ عوام دشمن پالیسیز کے خلاف جدوجہد کرتے تھے اور عوام کو ان پالیسیز سے چھٹکارہ دلاتے تھے، جبکہ دوسرے قبیلے کے حملہ آور ہونے کی صورت میں اپنے قبیلے کی حفاظت کرتے تھے، اپنی عوام کو ان کے شر سے محفوظ رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتے تھے"، اگر ان باغیوں پر تبصرہ کیا جاۓ تو ان کا مشن اپنی عوام کی فلاح و بہبود، جان و مال کا تحفظ تھا، اپنے لوگوں کی بہتری کی حکمت عملی مراتب کرنا تھا.
اگر ہم اس وقت کے دہشتگرد باغیوں پر تبصرہ کریں تو کچھ انوکھا ہی منظرنامہ سامنے آتا ہے،یہ لوگ تو اپنی ہی عوام کی جان و مال کے دشمن بنے بیٹھے ہیں، اب اگر ہم "آئ ایم یو" یعنی "اسلامک موومنٹ آف ازبکستان" جس نے کراچی ایئر پورٹ پی حملے کی زمیداری قبول کی ہے اس پر تبصرہ کریں تو یہ ایک ایسے موومنٹ ہے جو سوویت یونین کی شکست کے بعد اپنی ہی ریاست کے خلاف کاروایوں میں ملوث رہی ہے اور اگر ہم اس کو القاعدہ کی ذیلی تنظیم کہیں تو بھی کچھ غلط نہی ہو گا اس کی بنیاد ١٩٩١ میں "طاہر یلدوشیف" اور سوویت پیراٹروپر "جمع نمانغنی" نے رکھی تھی، جس کا مقصد ازبکستان کے صدر اسلم کریمو کا تختہ الٹ کر ازبکستان کو اسلامی ریاست بنا کر شریعت کا نفاذ تھا، جبکہ یہ دونوں ازبک ہی تھے. اس تنظیم کو یہ لوگ تاجکستان اور افغانستان میں طالبان کے زیر اثر علاقوں سے چلاتے تھے.٢٠٠١ میں نمانغنی  کی موت کے بعد یلدوشیف اور ان کے کچھ لڑکوں نے طالبان کی مدد سے وزیرستان میں پناہ لے لی کیوں کی افغانستان میں یہ لوگ طالبان کے شانہ بشانہ لڑ رہے تھے، جبکہ وزیرستان منتقلی کے بعد انہوں نے اپنی ٹریننگ کمپس بھی وزیرستان میں بنا لی تھی. شروعاتی دور میں ان کو مالی امداد پاکستانی فرشتوں نے دی تھی.
کراچی ایئر پورٹ پر حملے کا مقصد ان لوگوں نے اپنے ویب بیان میں یہ بتایا  ہے کے یہاں سے ڈروں طیاروں کے فاضل پرزہ جات افغانستان بھیجے جاتے تھے، جبکہ یہ حملہ قبائلی علاقوں پر حالیہ بمباری کا بدلہ بھی ہے.
ای ایم یو کے القاعدہ، افغان طالبان اور تحریک طالبان کے ساتھ مضبوط مراسم ہیں، جبکہ ان کے لشکر جھنگوی کے ساتھ بھی قریبی مراسم ہیں، {لشکر جھنگوی کی بنیاد سپاہ صحابہ پاکستان کے بانی حق نواز جھنگوی کی موت کے بعد ریاض بسرہ نے سپاہ صحابہ کے بزرگ رہنماؤں سے  اختلافات کے بعد ڈالی تھی، اس کا ماننا تھا کے سپاہ صحابہ کے بانی حق نواز جھنگوی کے بعد سپاہ صحابہ ان کے منشور سے پیچھے ہٹ گئی ہے، ایرانی سفیر صادق گنجی پر لاہور میں حملے میں بھی ریاض بسرا ملوث تھا اور اس حملے کے بعد ہے اسے شہرت ملی}.
پاکستان میں کسی اہم مقام پر یہ پہلا حملہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی دہشتگرد کئی اہم مقامات کو نشانہ بنا چکے ہیں، جن میں پی این ایس مہران، کامرہ ایئر بیس، جی ایچ کیو وغیرہ شامل ہیں، ہم نے ان تمام حملوں کے بعد یہ تو بتا دیا کے اس حملے میں کونسی نسل کے دہشتگرد ملوث ہیں، چیچک، ازبک یا افغانی، مگر ہے کوئی ایسا انسان پاکستان میں جو ان سے پوچھ کے یہ غیر ملکی پاکستان میں داخل کیسے ہوتے ہیں؟ ہماری سرحد پر موجود فوجیں کیا کر رہی ہیں یا پاکستانی قوم کے اربوں روپے جن انٹیلی جنس ایجنسیز پر لگ رہے ہیں وہ کیا کر رہی ہیں؟ آخر پاکستانی قوم یہ سوال کیوں نہ اٹھاۓ جو قوم ان کے اخراجات برداشت کرتی ہے کیا اس کو یہ سب پوچھنے کا حق نہیں؟ ان سب سوالات کو چھپانے کے لئے ہم الزامات ایسے دشمنوں پر دھر دیتے ہیں جن کا دور دور تک ان چیزوں سے کوئی لینا دینا ہی نہیں ہوتا، یا شاید ہمارے سیاستدانوں اور اداروں کو اس چیز کا خطرہ ہے کے ان کی ماضی کی غلطیوں کے بھید نہ کھل جائیں.
حضور ! سوال تو اٹھیں گے اور ماضی بھی کریدہ جاۓ گا، کیا اس میں کوئی صداقت نہیں کے ہم نے ہی ان لوگوں کو مضبوط کیا ہے؟ یہ بھی بالکل جھوٹ ہے کے آج بھی ہماری کئی سیاسی جماتیں انہی لوگوں سے انتخابات میں مدد حاصل کرتی ہیں، یا ١٩٩٤ میں ہماری جمہوری حکومت نے ملا عمر کو اسلحہ نہیں فراہم کیا تھا اور اسے افغانستان میں مضبوط نہی کیا تھا.
ہاں ماضی کی غلطیاں بھلائی جا سکتی ہیں مگر اس کے لئے اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے، ہمارے سیاستدان تو آج تک اپنا قبلہ درست کرنے کی سمت بڑھنے کو تیار ہی نہیں، وہ تو اب تک انہی جہادی گروپس کی حمایت حاصل کرکے انتخابات لڑ رہے ہیں، ہمارے ہاں موجود مذہبی جماتیں ان دہشتگردوں کو شہید کہنے میں ذرا بھی نہیں ہچکچاتیں، جبکہ ہمارے ادارے آج بھی اپنی توجہ اصل کام سے ہٹا کے کسی اور ہی کام پر لگے ہوئی ہیں، تو اس صورتحال میں ہم کس بہتری کی امید کر سکتے ہیں، ہماری عسکری قیادت اپنی سمت کا تعین کر چکی ہیں، اور یہ واضح کر چکی ہیں کے ہمیں اندرونی خطرات لاحق ہیں، اور اندرونی خطرات ہی حقیقت میں لاحق ہیں، کیوں کے پاکستان میں موجود جہادی گروپس اگر ان بیرونی دہشتگردوں کو مدد نہ فراہم کریں تے یہ اتنی موثر کاروائیاں نہیں کر سکتے، یہاں یہ سوال بھی اٹھانا ضروری ہے کے ایئر پورٹ پر حملے میں کہیں ایئر پورٹ کے عملے میں سے تو کسی نے مدد فراہم نہیں کی، تفتیش کا رخ اس طرف بھی موڑنا ضروری ہے، کیوں کے ہمارے ہاں گھروں میں ہونے والی چوریوں میں گھر میں کام کرنے والے نوکر اور ماسیاں ہی ملوث نکلتی ہیں، جو بیرونی چوروں کو گھر میں موجود چیزوں کے بارے میں آگاہی دیتی ہیں، لہٰذا تفتیش کا رخ ماسیوں کی جانب بھی موڑنا چاہیے.ہندی زبان میں ایک کہاوت مشھور ہے کہ "گھر کا بھیدی لنکا ڈھاہے".