Tuesday, 7 October 2014

قدرتی آفات اور پاکستان

قدرتی آفات اور پاکستان   

تنویر آرائیں


سیلاب نے ایک بار پھر ملک کی عوام کو دربدری کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا ہے۔ قدرتی آفات کے باعث سینکڑوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، اور بے  گھر ہونے والے افراد کی تعداد لاکھوں میں ہوچکی ہے۔ عوام ایک بار پھر بلبلا اٹھی ہے۔

اس سے پہلے بھی آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے ہمارے ملک کے تقریباً دس لاکھ لوگ بنوں میں زیر عتاب ہیں۔ اس کے علاوہ دو صاحب اور بھی ہیں جو اسلام آباد میں کیمپ لگائے بیٹھے ہیں، اور خود کو نظام اور انتخابات متاثر کہہ رہے ہیں۔ ان تینوں قسم کے متاثرین کے بارے میں تفصیلی بحث آئندہ کسی بلاگ میں ضرور کریں گے۔

اس وقت ملک میں اہم ترین مسئلہ سیلاب ہے تو بات اسی پر کرنی چاہیے۔ جولائی 2010 میں شدید بارشوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی میں حکومتی اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 20 ملین یعنی 2 کروڑ لوگ متاثر ہوئے تھے۔ 307,374 مربع میل علاقہ زیرآب آیا تھا اور تقریباً دو ہزار کے قریب اموات ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے انفراسٹرکچر اور املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا تھا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 2010 کے اس سیلاب سے ملکی معیشت کو تقریباً 4.3 ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔

2010 کے سیلاب سے بڑے پیمانے پر سڑکیں تباہ ہوئیں، 10,000 کے قریب ٹرانسمیشن لائنیں اور ٹرانسفارمرز متاثر ہوئے، جبکہ 150 پاور ہاؤسز زیرآب آئے۔ جس کے باعث 3۔135 گیگا واٹ توانائی کا شارٹ فال ہوا۔

نیشنل ڈزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق 29 ستمبر تک تقریباً  2,523,681 لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ 360 افراد جاں بحق، 646 لوگ زخمی، اور 56,644 گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ 4065 سے زائد دیہات بھی متاثر ہوئے، جبکہ 2,416,558 ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں اور 8957 سے زائد مویشی سیلاب میں بہہ گئے۔
------------
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے مطابق قدرتی آفات سے پہلے انتظامات پر جہاں ایک ڈالر خرچ آتا ہے، وہاں آفات کے بعد سات ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ قبل از آفات انتظامات نہ کرنے سےخرچ 6 گنا بڑھ جاتا ہے اور جانی نقصان اس کے علاوہ ہوتا ہے۔ مگر کیا کہنے ہماری حکومتوں کے۔ تاریخ گواہ ہے کے پاکستان میں ممکنہ خطرات کے پیش نظر کبھی بھی کوئی انتظامات دیکھنے کو نہیں ملے۔

اس وقت سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقوں میں ریسکیو کا عمل جاری ہے جس میں ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور پاک فوج حصہ لے رہی ہے۔ جبکہ سیلابی ریلا آگے کی جانب گامزن ہے جس سے مزید قیمتی جانوں اور املاک کے نقصان کا خدشہ ہے۔

2010 کے تباہ کن سیلاب کے بعد عدالتی کمیشنز بنے، جنہوں نے سیلاب کی تباہ کاریوں پر اپنی رپورٹس مرتب کر کے صوبائی حکومتوں کے حوالے کیں۔ ان رپورٹس میں انتظامیہ کی جانب سے برتی جانے والے غفلت سمیت کئی  چیزوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ مگر حسب معمول فائلیں سرد خانے کے حوالے کر دی گئیں۔

2010 کے سیلاب میں سندھ کے کئی سیلاب زدہ علاقوں میں جو عام شکایات میرے سامنے آئیں، وہ دریائی راستوں اور نکاسی آب کے راستوں پر ناجائز تجاوزات تھیں۔ کئی متاثرین نے بات چیت کے دوران مجھے بتایا کہ نکاسی آب کے قدرتی راستوں پر دریاؤں کے بندوں کو ہموار کر کے وہاں آبادی کی گئی ہے، جس کی وجہ سے سیلابی پانی کا دباؤ بڑھا اور کئی جگہوں پر شگاف پڑے جن کی وجہ سے بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

ہمارے ملک میں ایک اور چیز بھی عام ہے، وہ ہے کچے میں آبادی، جس کو ہماری عوام اپنا حق سمجھتی ہے اور انتظامیہ بھی اس قسم کے تجاوزات کی جانب توجہ نہیں دیتی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق کشمور سے کیٹی بندر تک کچے میں تقریباً 24 لاکھ افراد مقیم ہیں اور وہاں زراعت کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ کہ اگر پانی کا  بڑا ریلا دریائے سندھ سے گزرتا ہے تو وہ ابتدائی طور پر 24 لاکھ کی آبادی کو متاثر کرے گا جو زبردستی متاثر ہونے کے مترادف ہے۔

سندھ میں قدرتی آبی راستوں پر ناجائز تجاوزات کے خلاف سندھ اسمبلی میں قانون بھی پاس ہو چکا ہے، جس کے تحت تجاوزات میں ملوث افراد پر سخت سزائیں اور بھاری جرمانے بھی عائد کیے جاسکتے ہیں۔ لیکن یہ قانون بھی بالکل ویسے ہی ردی کی نذر ہوچکا ہے جیسے کہ دیگر قوانین۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ اس قسم کی ناجائز تجاوزات میں وہ لوگ ملوث ہیں جو سیاسی حلقوں میں اپنا اثر و رسوخ رکھتے ہیں یا جن کے دم پر ایم پی اے یا ایم این اے ایوانوں تک پہنچتے ہیں۔

پاکستان میں عموماً قوانین بنتے ہی توڑے جانے کے لیے ہیں، اور ان پر عملدرآمد کے بجائے ان کی دھجیاں بکھیری جاتی ہیں۔

اب جب کہ پاکستان کی حکومتیں جانتی ہیں کہ Climate Change کی وجہ سے ہر سال سیلاب میں شدت آنے کا امکان ہے تو ایسے میں ایوانوں میں یہ کہنا کہ ہمیں تو پتا ہی نہیں چلا اور اچانک  سیلاب آ گیا، ایک مجرمانہ غفلت کو چھپانے کی ناکام کوشش کے مترادف ہے۔ اس قسم کی احمقانہ باتوں کے جواب میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ حضور قدرتی  آفات بتا کر نہیں آتیں ہر ملک ممکنہ خطرے کے پیش نظر بندوبست کرتا ہے، اور اپنی عوام کی جان و مال کے ہر ممکن تحفظ کے لیے عملی بندوبست کرتا ہے۔

دوسری بات یہ کہ National Climate Change Policy منظور ہوئے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن ذمہ دار ادارے اور وزراء اس پر عملدرآمد کے لیے تیار نہیں ہیں۔

تمام ترقی یافتہ ممالک میں ممکنہ خطرات کے پیش نظر پیشگی انتظامات کیے جاتے ہیں جبکہ ہمارے پاس پیشنگوئی کے باوجود کوئی انتظامات دیکھنے کو نہیں ملتے۔ تباہ کاریوں کے بعد، بجائے اس کے کہ کمزوریوں اور غلطیوں سے سبق سکھ کر مستقبل میں ایسی تباہ کاریوں سے بچنے کے لیے کوئی پالیسی بنائی جائے، ہم ایک دوسرے کے خلاف الزامات کے علاوہ کچھ نہیں کرتے۔ ویسے بھی پالیسیوں پر عملدرآمد تو ہوتا نہیں ہے تو بنانے کا فائدہ کیا ہو گا۔ جو پہلے بنی ہوئی ہیں، وہ بھی منوں مٹے تلے دب چکی ہیں۔

جب تک ہمارے ملک میں قوانین سنجیدگی سے نہیں بنیں گے، اور ان پر عملدرآمد نہیں ہو گا، ہم ہردفعہ ایسے ہی نقصانات کا سامنا کرتے رہیں گے، اور عوام کی چیخ و پکار ہمارے کانوں میں گونجتی رہے گی۔ ساتھ ساتھ معیشیت بھی ڈوبتی چلی جائے گی۔
______________________________________________
لکھاری اینکر پرسن اور تجزیہ کار کے طور پر فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں، اور ان دنوں فری لانس جرنلسٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ وہ ٹوئٹر پر@tanvirarain کے نام سے لکھتے ہیں۔

______________________________________________   

یہ بلاگ 1 اکتوبر 2014 کو ڈان اردو پر شایع ہو چکا ہے.
    

  

Monday, 29 September 2014

مذہب معاشرہ اور ریاست

مذہب معاشرہ اور ریاست
تنویر آرائیں

پاکستان کہنے کو تو 14 اگست 1947 کو آزاد ہوا تھا لیکن کیا پاکستان ایک آزاد مملکت ہے جہاں ہر شخص کو کہنے، سننے، لکھنے، پڑھنے، کام کرنے یا اپنے مذہبی، سماجی، معاشرتی فرائض سرانجام دینے کی آزادی ہو؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہر باشعور پاکستانی کے ذہنوں میں کبھی نہ کبھی گردش ضرور کرتا ہے. جب بھی اس سوال کا جواب ڈھونڈھنے کی کوشش کی جاتی ہے تو پھر پاکستانی کو جو چیز نظر آتی ہے اسے "غلامی" کہتے ہیں.

ذرا سی سنجیدگی سے اگر ہم اپنے اردگرد کے ماحول کا جائزہ لیں تو ہمیں قدم قدم پر بندشوں کی ایک طویل قطار نظر آتی ہے جو پاکستانی قوم کی صلاحیتوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے اور ملک روز بروز ترقی کے بجاۓ پسماندگی کی طرف بڑھ رہا ہے.

جس ملک میں کچھ کہنے پر پرچے درج ہوں، لکھنے پر لفافہ لکھاری کے الزامات، پڑھنے پر فرقوارانہ فسادات اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ  کام کرنے پر ایجنٹ قرار دیا جاۓ تو اس معاشرے میں نئے خیالات، نئی سوچ اور صلاحیتوں کو زنگ ہی لگے گا اور پسماندگی کے سوا کچھ بھی حاصل نہ ہو پائے گا.

ہمارے ہاں سیاسی مقاصد کے لئے مذہب کا استعمال ایک ایسی تدبیر ہے کے جس سے ہر مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے. کیوں کے پاکستان مذہبی بنیاد پر قائم ہوا تھا. آج بھی پاکستان میں سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے مذہب کو سب سے زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے، چاہے وہ فرقوں کی بنیاد پر ہو یا دو مذاہب کی بنیاد پر. جسے ہم Sectarianism یا Comunalism کہہ سکتے ہیں، پاکستان میں ان دو قسموں کے انتشار کے پیچھے جو عوامل کار فرما ہیں وہی پاکستانی معیشیت کو تباہ کر رہے ہیں.

پاکستان میں یہ فسادات آزادی کے اعلان کے ساتھ ہے شروع ہو گئے تھے یہاں پر ہندوں اور سکھوں کا قتل عام ہوا اور سرحد کے اس پار مسلمانوں کا. لیکن اس کے بعد بھی کسی نے یہ سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کے اس قسم کے فسادات کو کیسے روکا جاۓ، بلکے روکنے کے بجاۓ دونوں ممالک نے ان فسادات میں دن دگنی اور رات چگنی ترقی کی.

پاکستان میں 1970 کی دہائی میں احمدیوں کو غیر مسلم  قرار دے کر اقلیت بنا دیا گیا اور ان کے خلاف جو قوانین بنے انہوں نے معاشرے میں ان کا جینا تنگ کر دیا اور اس کے بعد دوسری مہم شیعہ فرقے کو کافر قرار دینے کی ہے.

سیاستدان سیاسی مقاصد کے لئے اس تقسیم کو رائج رکھنا چاہتے ہیں. جس تقسیم کی شروعات برطانوی راج میں ہوئی تھی. احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے اور اس کے بعد ان کے خلاف بننے والے قوانین نے جو کمیونل فسادات برپا ہوۓ ان کے باعث ہزاروں کی تعداد میں احمدی پاکستان سے دیگر ممالک ہجرت کر گئے. یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کے جب بھی کوئی کسی ملک سے ہمیشہ کے لئے منتقل ہوتا ہے تو وہ اپنا سرمایا بھی ساتھ لے کر جاتا ہے جس سے ملکی معیشیت کو نقصان ہوتا ہے.

UNHCR  کے مطابق 2013  میں پاکستان سے 1489 لوگ سری لنکا منتقل ہوۓ جن میں بڑی تعداد عیسائیوں اور احمدیوں کی ہے.

آج ماڈل ٹاؤن حادثے میں 14 لوگوں کی اموات پر ملک کے دارلحکومت میں دھرنا جاری ہے اور وزیراعلی پنجاب کے استفیٰ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے. ملک کے تقریباً سب ہی دانشور، ادیب اور میڈیا سانحہ ماڈل ٹاؤن کو ریاستی دہشتگردی قرار دے رہی ہے. 2010  میں بھی ماڈل ٹاؤن میں احمدیوں کی ایک عبادت گاہ پر حملہ ہوا تھا جس میں درجنوں لوگ جاں بحق ہوۓ تھے مگر اس وقت کسی نے بھی دھرنا نہیں دیا تھا اور کسی دانشور نے  اپنی زبان اور قلم کا استعمال اس طرح نہیں کیا تھا. (ایسے کئی حادثات پر خاموشی کی وجہ سے ہی میں اوپر یہ لکھ چکا ہوں کے بولنے اور لکھنے کی آزادی سلب ہے).
ایسے ہی کاروائیاں سندھ میں ہندوؤں کے خلاف جاری و ساری ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں ہندو سندھ سے نقل مکانی کر چکے ہیں، سندھ میں ہندو سب سے بڑے کاروباری جانے جاتے ہیں جن کا کاروبار لاکھوں سے شروع ہو کر اربوں تک جاتا ہے. لیکن ملک میں جاری کمیونل ازم کی فسادی لہر نے ان کا جینا حرام کر رکھا ہے جس کی وجہ سے وہ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں. مسلم لیگ ن کے رہنما ڈاکٹر رمیش کمار وانکانی نے قومی اسمبلی میں کو بتایا کے ہر سال پاکستان سے 5,000 ہندو نقل مکانی کرتے ہیں.

ایسا ہی کچھ ماحول سکھوں کے لئے بنایا جا رہا ہے تا کہ وہ بھی خود کو غیر محفوظ تصور کریں اور پاکستان سے دیگر ممالک کی طرف کوچ کر جائیں.

ہم ہمیشہ مہذب دنیا کی مثالیں دیتے ہیں لیکن ان کی تاریخ یا اپنی تاریخ سے ہم نے ہم نے کچھ سیکھنے کی کوشش نہیں کی. عیسائی دنیا خاص طور سے یورپ اس وقت سخت فرقوارانہ جنگوں میں الجھی جب مارٹن لوتھر نے کیتھولک مذہب  چیلنج کیا اور اس کے نتیجے میں پروٹیسٹنٹ فرقہ وجود میں آیا. فرقوارانہ فسادات اس وقت اور شدّت اختیار کر گئے جب کیتھولک و پروٹیسٹنٹ فرقوں کو مختلف ریاستوں کی حمایت حاصل ہوئی. یا ایسا کہہ  لیجئے کے فرقوارانہ ریاستوں کا قیام  عمل میں آیا. فرانس کیتھولک رہا اور پروٹسٹنٹون کے خلاف رہا، انگلستان کا حکمران پروٹیسٹنٹ ہوگیا تو وہاں کیتھولک فرقہ دشمن بن گیا. خاص طور پر یورپ سولہویں صدی میں فرقوارانہ فسادات کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا. ان فسادات کی وجہ سے فرانسی معاشرہ ٹکرے ٹکرے ہو گیا.

معروف انگریز مورخ "ایچ اے ایل فشر" یورپ کی تاریخ میں لکھتا ہے کے "فرقوارانہ جنگوں نے فرانس کی صدیوں سے حاصل شدہ قومی وحدت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا. ایک شہر دوسرے شہر کا دشمن ہو گیا ایک خاندان دوسرے خاندان سے برسر پیکار ہو گیا لوٹ مار قتل و غارت گری اور توڑ پھوڑ روز مرہ کی زندگی کا معمول بن گئی. مذہب کے نام پر ذاتی دشمنیاں بھی بھگتائی گئیں.جب پورا فرانس جل رہا تھا تو دانشور اور اخلاقیات کے پیروکار خاموشی سے یہ سب تماشہ دیکھ رہے تھے".

یہی کچھ آج ہمارے ملک میں ہو رہا ہے شیعہ سنی کے نام پر قتل غارت، ہندو مسلمان کے نام پر قتل و غارت. اور بلکل سولہویں صدی کے یورپ کی طرح ہمارے حکمران ایک خاص فرقے کی پشت پناہی کرتے ہوے نظر آتے ہیں. جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج ہمارا معاشرے بکھرا ہوا نظر آ رہا ہے.

جس طرح فرقوارانہ فسادات کی وجہ سے فرانس سے پروٹیسٹنٹوں نے خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہوۓ ہجرت کی تھی اسی طرح آج پاکستان سے نقل مکانی ہو رہی ہے جس سے معاشرہ غیر محفوظ اور معیشیت تباہ ہو رہی ہے. ملک سے باصلاحیت افراد دوسرے ملکوں میں پناہ لے رہے ہیں.

جس طرح اسپین اور فرانس سے ہنر مند افراد کی ہجرت سے دونوں ممالک ترقی کرنے کے بجاۓ تباہی کی طرف  بڑھنے لگے تھے بلکل اسی طرح آج ہمارے ملک سے بھی ڈاکٹر، انجنیئر، تاجر طبقے اور ہنر مند لوگوں کی ہجرت سے ہم ترقی کے بجاۓ تباہی و بربادی کی جانب گامزن ہیں.

اسپین میں مسلمانوں کی عیسائیوں کے ہاتھوں سکشت کے بعد جب ان لوگوں نے مسلمانوں اور یہودیوں کے خلاف تحریک چلائی تو اسپین میں مقیم کثیر تعداد میں مسلمانوں اور یہودیوں کو ہجرت کرنی پر جس کا نتیجہ یہ نکلا کے اسپین ہزاروں دستکاروں، ہنر مندوں اور تاجروں سے محروم ہو گیا. 1462 میں انکوئیزیژن کے محکمے کو حرکت میں لایا گیا جس کے زریعے مسلمان، یہودی اور دیگر غیرعیسائیوں پر نظر رکھی جاتی تھی اور انھیں زبردستی عیسائی بنایا جاتا تھا یا قتل کر دیا جاتا تھا.

یورپ نے فرقہ واریت کے خاتمے کو ہی ترقی کا زینہ جانتے ہوۓ ایسے قوانین بناۓ جن میں ہر فرقے ہر مذہب کو مساوی حقوق حاصل ہوۓ. جس کی شروعات 1598 میں فرانس سے ہوئی جس نے کچھ قوانین  (Edicts of Nante) بناۓ جس کے تحت فرانس میں پروٹسٹنٹوں کو مذہبی آزادی دی گئی، شہری حقوق میں مساویانہ برتاؤ کیا گیا. اس کے بعد آہستہ آہستہ قوانین بنتے گئے اور فرقہ وارانہ اور مذہبی فسادات تھم گئے.

پاکستان میں بھی اگر معیشیت کو مضبوط کرنا ہے تو سب سے پہلے فرقوارانہ، مذہبی اور لسانی فسادات کو روکنا ہو گا. یہ اس وقت ہی ممکن ہو سکے گا جب ریاست ایک فرقے کی نہیں ایک قوم کی نمائندگی کرے گی.            
______________________________________________
لکھاری اینکر پرسن اور تجزیہ کار کے طور پر فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں، اور ان دنوں فری لانس جرنلسٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ وہ ٹوئٹر پر@tanvirarain کے نام سے لکھتے ہیں۔
______________________________________________       

 

                  

Wednesday, 17 September 2014

اجتماعی سیاسی قبر

اجتماعی سیاسی قبر

تنویر آرائیں


گزشتہ تقریباً دو ہفتوں سے جاری افراتفری نے پورے ملک کو مفلوج بنایا ہوا ہے، ایک طرف انقلاب، دوسری طرف آزادی، اور تیسری طرف جمہوریت کے راگ الاپے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کئی گیدڑ بھپکیاں سننے میں آ رہی ہیں، تینوں گروپوں کی  جانب سے خود کو صحیح ثابت کرنے کے لیے پارلیمنٹ، تقریر، خطابات، قرآن و حدیث کا استعمال اور منت سماجت و ترلوں سے ہوتے ہوئے دعوت ناموں تک کی جدوجہد سامنے آئی۔

عملی طور پر یکم اگست سے جاری اس افراتفری کا نتیجہ ملکی معیشت، عوامی نقل و حرکت، بنیادی حقوق کے استحصال کے روپ میں نکلا ہے۔ ملکی ادارے ایک بار پھر یرغمالی کی جانب بڑھنے لگے ہیں۔ ملک کو جہاں کئی ارب روپے کا نقصان ہوا ہے، وہیں عوام میں بھی اس عمل کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

میرے خیال سے پاکستان میں پارلیمانی سیاست کرنے والی جماعتوں نے اپنی قبر کھودنے کا آغاز کر لیا ہے، سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ مارشل لا کے نفاذ پر اپنی افواج کو گھسیٹنے کی پوری کوشش کی ہے۔ اگر ہم پاکستان میں نافذ ہونے والی مارشل لا کی طویل تاریخ کا جائزہ لیں تو ان کا سبب سیاسی جماعتیں ہی رہی ہیں۔ کسی نا کسی نابالغ تحریک کے بعد ہی ٹرپل ون بریگیڈ درالحکومت پہنچی اور مارشل لا کا نفاذ ہوا۔

آج پھر ملک میں ایک ایسی جدوجہد جاری ہے جس کو نابالغ یا غیر پلاننگ شدہ کہہ سکتے ہیں، جس کا نتیجہ عالمی حوالے سے انتہائی افسوسناک نکلا ہے۔ ایک لحاظ سے ہم دوبارہ آگے بڑھتے بڑھتے ریورس گیئر لگا چکے ہیں۔ جبکہ ساتھ ہی ساتھ عالمی برادری کو یہ میسج پہنچ چکا ہے کہ پاکستان کی سیاست کی لگام  ابھی تک اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں ہے، جو کہ انتہائی افسوسناک پیغام ہے۔

ایک طرف کئی ممالک کی جانب سے اس قسم کی لا متناہی خبریں جریدوں میں جڑی جاتی ہیں کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ جمہوریت اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ ایسی صورتحال میں حکومت کا فوج کو سیاسی معاملات میں شریک ہونے کی دعوت دینا قابل مذمت ہے۔ پاکستانی افواج کو سیاسی معاملات میں ڈال کر ایک بار پھر دشمنوں کو موقع فراہم کیا گیا ہے کہ وہ افواج پاکستان پر اپنے وار جاری رکھیں۔

دوسری جانب افواج پاکستان کو سیاسی معاملات میں شرکت کی دعوت دینا اس بات کا ثبوت فراہم کرنا ہے کے پاکستان کی سیاسی قیادت سیاسی معاملات سے نمٹنے کی طاقت  نہیں رکھتی، ٹھیک اسی طرح جیسے انتظامی معاملات (زلزلے، سیلاب یا دیگر قدرتی آفات) میں ناکامی کی صورت میں۔ اس دعوت نامے سے جہاں عوام کی نظر میں سیاسی جماعتوں کی افادیت کو شدید دھچکا لگا ہے عین اسی طرح بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے بارے میں بھی کوئی اچھی رائے نہیں گئی اور کئی قسم کے ابہام پائے جانے لگے ہیں۔

مجھ سمیت پاکستان کا ذرا سا بھی شعور رکھنے والے لوگ اس شراکت کو کوئی مفید عمل نہیں سمجھتے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جس میں سب سے اہم وجہ یہ ہے کے پاکستان کے سیاسی مسائل کو حل کرنا حکومت و سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے اور تمام تر اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ ہر ادارے کو اپنے فرائض خود انجام دینے چاہییں، یہاں تو ہر ناکامی کا حل جی ایچ کیو سے نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

میاں صاحب کی انتظامی ناکامیوں کا قصیدہ تو کئی حضرات پڑھ رہے ہیں، لیکن میاں صاحب نے خود کو ناکام ثابت کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ لیکن فوج کی شراکت کی ذمہ داری صرف ن لیگ پر نہیں ڈالی جا سکتی، اس میں عمران خان صاحب اور ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی اپنا برابر بلکہ کافی حصہ ڈالا ہے۔

ایک لحاظ سے فرشتے اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ پاکستانی اداروں میں گزشتہ چند سال میں جو مداخلت کم ہوئی تھی اس عمل سے اس میں پھر تیزی آئے گی، جو طاقتیں گزشتہ کچھ عرصے سے ملکی معاملات میں دخل نہیں دے پا رہی تھیں یا انہیں ان معاملات سے الگ رکھا جا رہا تھا ایک بار پھر ان طاقتوں کو یہ موقع فراہم کیا گیا ہے کے وہ اپنا اثر و رسوخ اور گرفت مضبوط کریں۔ یہاں یہ کہاوت بلکل ٹھیک بیٹھتی ہے کہ سب نے مل کے "آ بیل مجھے مار" والے کلیے پر عملدرآمد کیا ہے۔

حقیقی جمہوریت کے دعویدار اور جمہوریت کی بقا کے بلند و بانگ نعرے لگانے والوں نے ایک بار پھر ملک کو نازک ترین دور میں دھکیل دیا ہے۔ کئی دنوں سے پاکستان کی عوام میں گردش کرنے والی افواہوں (کے یہ سکرپٹیڈ ہے )کو سچ ثابت کرنے میں خان اور قادری صاحب نے کوئی کثر نہیں چھوڑی۔

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ایک فریق نے حکومت اور دوسرے فریقوں نے عزت بچانے کے لیے ملک کو بدنام کیا ہے اور رائے عامہ ہموار کرنے کے بجائے عوام کو ہر معاملے میں فوج کی جانب دیکھنے پر مجبور کیا ہے۔ یہ بلکل واضح ہو چکا ہے کہ اس سارے معاملے میں جمہوری و اخلاقی روایات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دونوں فریقوں نے ملک کی عزت و وقار کے بجائے اپنی انا کو بچانے کی کوشش کی ہے۔

پاکستانی سیاسی جماعتیں انا کی جنگ لڑتے لڑتے ملک و قوم کا ستیاناس کرنے پر تلی ہوئی نظر آتی ہیں۔ مجھے تو یہ لگتا ہے جس طرح ان لوگوں نے اپنی انا کی خاطر جمہوری روایات و سیاسی حکمت عملی کی دھجیاں بکھیری ہیں اسی طرح یہ لوگ اپنی بقا کے لیے ملک کی بقا کو بھی خطرے میں ڈالتے ہوۓ ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔ جمہوریت کے چیمپئن جمہوریت کو ایک لمحے تک گرم ہوا سے محفوظ نہیں رکھ سکے اور ہاتھ کھڑے کر دیے۔

اب یہ حقیقت کوئی راز نہیں رہی کہ پاکستان کے سیاستدان جمہوریت، مینڈیٹ اور عوام کی حکمرانی کا گن اپنی کرسیاں بچانے کے لیے ہی گاتے رہتے ہیں۔ کاش! کہ ہمیں اب یہ سننے کو نہ ملے کہ عوام اور ملک کے وسیح تر مفاد میں آرمی سے رجوع کیا گیا۔ دوسری جانب سے یہ کہ افواج پاکستان کی یقین دہانی پر ہم وزیر اعظم کا استعفیٰ لیے بغیر واپس لوٹ رہے ہیں۔
اب جب کہ پاکستان کے عسکری ادارے کو ان معاملات میں جھونک دیا گیا ہے تو پاکستانی سیاسی جماعتیں اسی طرح اور فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوے اپنی ناکامی کو تسلیم کریں اور جمہوریت کا راگ الاپنا بند کریں۔ اپنی عوام جن کو وہ اپنا سمجھتے تو نہیں ان سے معذرت کرتے ہوئے یہ فرما دیں کہ مملکت خداداد جمہوریت کی متحمل نہیں۔  

لکھاری اینکر پرسن اور تجزیہ کار کے طور پر فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں اور ان دنوں فری لانس جرنلسٹ کے طور پر کام کر رہے  ہیں۔
twitter: @tanvirarain
    

یہ بلاگ 29 اگست 2014 کو ڈان اردو پر شایع ہو چکا ہے .

Thursday, 21 August 2014

انقلاب کا ترپ پتّہ

انقلاب کا ترپ پتّہ  

تنویر آرائیں


چلو جی اب ہم گاندھی کے نقش قدم پر چل پڑے ہیں، اب کوئی بھی ٹیکس نہیں دے گا، بجلی اور گیس کے بل بھی نہیں دیں گے، ریاست کی "رام نام ستے ہے"، عمران خان صاحب نے اعلان کر دیا سو کر دیا، اور ہاں 48 گھنٹے ہیں میاں صاحب کے پاس استعفیٰ نہ دیا تو وزارت عظمیٰ کا بھی "انتم سنسکار".

خان صاحب تو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح سے بھی آگے بڑھنے کی کوشش میں لگ رہے ہیں، کیوں کہ سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا اعلان تو کبھی بانی پاکستان نے بھی نہیں کیا تھا، حالانکہ اس وقت تو ماحول اور صورتحال انتہائی گھمبھیر تھی.

1977 میں سول نافرمانی تجویز پیر پگارا، مولانا مفتی محمود، ولی خان، میاں طفیل محمّد، پروفسرغفور، نواب خیر بخش مری، سمیت دیگر کئی اہم سیاستدانوں کے سامنے اس وقت رکھی گئی تھی جب تقریباً 1200 لوگ جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، پورا ملک جام پڑا تھا اور کئی شہروں میں مارشل لا نافذ تھا، اس وقت انہوں نے کہا تھا کے یہ ریاست سے بغاوت ہو گی، ریاست کا کوئی قصور نہیں ہے.

سول نافرمانی کی تحریک عموماً کولونیل طاقتوں یا مارشل لا حکومتوں کے خلاف چلائی جاتی ہے، جس کی دو مثالیں موجود ہیں، مہاتما گاندھی نے یہ تحریک برطانوی قبضے سے آزادی کے لئے چلائی تھی. جبکے 1919 کے مصر کے انقلاب میں بھی یہ تحریک برطانوی قبضے کے خلاف چلائی گئی تھی.

خان صاحب فرما رہے ہیں کہ بجلی اور گیس کے بل ادا نہیں کریں گے اور نہ ہی ٹیکس دیں گے، حضور والا پاکستان قوم پہلے ہی آپ کی تجویز پر عمل پیرا ہے.

تنخواہ دار بھی ٹیکس دینا نہیں چاہتے مگر بینک خود ہی ان کی تنخواہوں سے ٹیکس کاٹ لیتا ہے، ایف بی آر کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی کل آبادی میں سے 1 فیصد سے بھی کم لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں.


ایک بین الاقوامی صحافی کا پاکستان میں ٹیکس کے حوالے سے ٹویٹ حاضر خدمت ہے:
https://twitter.com/khoureld/status/501051405105246208

خان صاحب فرما رہے ہیں کے یہ اسمبلی جعلی ہے تو ذرا سی جرات اور کریں اور کہہ دیں کہ اسی اسمبلی میں آپ کے جو ممبر حضرات ہیں وہ بھی جعلی ہیں، کیوں کہ ایسا تو نہیں چلے گا نا  کہ ن لیگ یا دیگر پارٹیوں کے ممبر جعلی جب کے اسی انتخابات کے زریعے سے آنے والے آپ کے اصلی!

پاکستان میں یہ دھاندلی دھاندلی والا کھیل خان صاحب نے ہی متعارف نہیں کروایا، یہ تو تقریباً اس ملک کے قیام سے ہی چلا آ رہا ہے، جو بھی ہارتا ہے وہ دھاندلی کا رونا رونے بیٹھ جاتا ہے. کسی کو دھاندلی کا رونا رونا چاہیے تو وہ پاکستان پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور عوامی نیشنل پارٹی ہونی چاہیے کیوں کہ خان صاحب جن سے مذاکرات کے لئے حکومت کے پیچھے پڑے ہوۓ تھے انہوں نے ان تین پارٹیوں کو انتخابی مہم ہی نہیں چلانے دی تھی.

پاکستان کے ساتھ اس وقت "بزکشی" کا کھیل جاری ہے (بزکشی کھیل پولو سے ملتا جلتا ہے، جس میں وحشیانہ حرکتوں کا مظاہرہ کیا جاتا ہے. اس کھیل میں گھڑ سوار کسی بچھڑے یہ بکرے کے دھڑ کو ایک دوسرے سے چھیننے کا مقابلہ کرتے ہیں، اس کھیل کے اصولوں کے مطابق کبھی اس دھڑ کو گھسیٹا جاتا تھا کبھی اٹھایا جاتا تھا) آج ریاست پاکستان اور اس کے سپریم ادارے وہ دھڑ بنے ہوۓ ہیں جس کو کبھی قادری صاحب چھینے کی کوشش کرتا ہوا نظر آتا ہے تو کبھی خان صاحب.

اس وقت جب خیبر پختونخواہ میں تقریباً دس لاکھ متاثرین بیٹھے ہوۓ ہیں اور بارش نے بھی کافی تباہی پھیلائی ہے تحریک انصاف کے وزیر اعلی اسلام آباد میں انٹرٹینمنٹ فرما رہے ہیں اور صوبے کی عوام کو بے یار و مددگار چھوڑا ہوا ہے کیا یہ نیا پاکستان ہے؟ یا ان کو سنبھالنے کے ڈر سے اسلام آباد آ بیٹھے ہیں؟

خان صاحب کا سارا زور مرکزی حکومت کو گھرانے پر ہے، اس کا مقصد کے صرف جن نشستوں سے ن لیگ جیتی ہے وہیں دھاندلی ہوئی ہے، جہاں کوئی اور جیتا وہاں سب فرشتے بیٹھے ہوۓ تھے، وہاں الیکشن کمیشن کا عملہ عمامہ پہنے ہاتھ میں تسبیح پکڑے بیٹھا تھا.

رہی بات جمہوریت کی تو اس کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ خان صاحب فرماتے ہیں 12 گھنٹے میں سوچتا رہا اور پھر اس نتیجے پر پہنچا کہ سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان کیا جاۓ.

مطلب یہ فیصلہ خان صاحب کا اپنا ہے اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کا اس سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ خان صاحب نے ان سے مشوره کرنا بھی گوارا نہیں سمجھا. ویسے تو خان صاحب کور کمیٹی کی بہت بات کرتے ہیں، اب کور کمیٹی کہاں گئی؟

خان صاحب فرماتے ہیں کے یہ لوگ الیکشن کمیشن خرید لیتے ہیں، شاید صاحب کو ڈر ہے کہ آئندہ انتخابات میں یہ ان سیٹوں سے بھی ہاتھ نہ دھو بیٹھیں، شاید ایک لاکھ موٹر سائیکل کا دعویٰ خاک میں مل جانے کے بعد خان صاحب کچھ سنجیدہ ہو گئے ہیں، لیکن یہ میری غلط فہمی ہی ہو سکتی ہے، کیوں کہ خان صاحب کا 48 گھنٹوں بعد اسمبلی میں گھسنے والی دھمکی نے سارا پول کھول کے رکھ دیا ہے.

اگر اسمبلی یا وزیراعظم ہاؤس میں چند ہزار کارکنان گھسا کر ہی حکومت میں آنا ہے تو پھر ملک میں انتخابات کروانے کا کیا فائدہ آج آپ چند ہزار لوگ پارلیمنٹ ہاؤس میں گھسا کر وزیر اعظم بنے کل کوئی اور یہی عمل دوہراے گا اگلے دن کوئی اور کھڑا ہو جاۓ گا. پھر تو ملک میں انتخابات کے بجاۓ دھرنوں سے حکومتیں منتخب کی جائیں گی. واجپائی نے بھی کیا خوب جملہ کہا تھا کہ اتنی تو میں اپنی دھوتیاں نہیں بدلتا جتنے پاکستان میں وزیر اعظم بدلتے ہیں.

پاکستانی عوام گزشتہ سال یہ امید لگا بیٹھی تھی کے ملک میں جمہوریت مستحکم ہو رہی ہے اور ملکی تاریخ میں پہلی بار اقتدار کی منتقلی آئین و قانون کے مطابق ہوئی ہے، جبکہ چھینا جھپٹی کلچر کا خاتمہ ہوا ہے، ان کو امید تھی کہ اب ملک میں کچھ بہتری آئے گی اور عوامی منصوبات پر کچھ کام ہو پاۓ گا.

لیکن ابھی تو صرف ایک سال ہی گزرا کے ماضی کی طرح ٹانگ کھینچنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، ملک میں ایک بار پھر عدم برداشت، ہوس اقتدار اور غیر جمہوری جن بے قابو ہو گیا ہے. لیکن اس دفعہ اگر یہ جن اپنے منصوبوں میں کامیاب ہو گیا تو میرے خیال سے ملک سے جمہوریت اب ایسا روٹھے گی کے منانے کے لئے اس بار پاپڑ بیلنے سے بھی کام نہیں چلے گا.

خان صاحب کو عام آدمی پارٹی سے سبق سیکھنا چاہیے، وہ بھی لوکل گورنمنٹ میں کامیابی حاصل کر کے مرکز کا خواب دیکھ رہی تھی اور اسی چکر میں استفیٰ دے کر گھر کو چلی گئے تھی، پھر اس کا حشر کیا ہوا سب جانتے ہیں. سندھی زبان میں ایک بڑی مشہور کہاوت ہے کہ؛

"سجی جے چکر میں ادھ بھی ونجاۓ ویھندے" (پوری کے چکر میں آدھی بھی گنوا بیٹھو گے).

دوسری طرف حکومت بھی ستو پئے نظر آتی ہے، ملک میں ایک مہینے سے جاری افراتفری سے نمٹنے کے لئے کوئی بھی حکمت عملی نظر نہیں آ رہی، ملکی ادارے مفلوج نظر آ رہے ہیں عوام حالت کسمپرسی میں مبتلا ہے، ملکی سرگرمیاں مفلوج ہو چکی ہیں اور کاروبار کو گھن لگ رہا ہے، اسحٰق ڈار کے بقول ان احتجاجوں کے باعث ملک کو 450 بلین کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا. مگر میاں صاحب بھولے بھیا بنے عوام سے پوچھ رہے ہیں کہ بھئی میرا کیا قصور؟

کم سے کم اتنا تو کر سکتے ہیں کے پارلیمنٹ کا جوائنٹ اجلاس بلا کے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیں، اور ایک آل پارٹیز کانفرنس بلا کر ان صاحبان سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی وضع کریں.

یہ بلاگ ڈان اردو پر 19 اگست  2014 کو شایع ہو چکا ہے.

Thursday, 14 August 2014

انقلاب یا انتشار؟

انقلاب یا  انتشار؟

تنویر آرائیں


جو سامنے آئے اسے راستے سے ہٹا دو، جتھہ بن کے ان کے گھروں میں گھس جاؤ، کریک ڈاؤں کرو، پکڑ کے یہاں لے آؤ، تھانے جلا دو، ڈکیتی کے ملزمان کو آزاد کروا دو، دما دم مست قلندر.

گزشتہ کچھ روز سے ڈاکٹر طاہر القادری کی عوامی تحریک کے کارکنوں کو اکسانے کی تقاریر آخر کار رنگ لے آئیں. عوامی تحریک کے گلو بٹ پنجاب  پولیس پر جس طرح ٹوٹے یہ واضح پیغام ہے کہ ان کا نام نہاد انقلاب پر تشدد ہے.

ایک وقت تھا کہ لال مسجد سے کچھ لوگ لاٹھیاں اٹھاۓ نکلتے تھے اور باہر توڑ پھوڑ کرتے نظر آتے تھے. اس وقت ہماری عوام اور میڈیا زور زور سے چلانے لگی تھی کہ یہ کون لوگ ہیں، انہیں روکو، شہریوں کو ان کے شر سے بچاؤ.

آج ایک بار پھر لال مسجد کی  تاریخ دہرائی جا رہی ہے بلکہ اس بار تو یہ لوگ ان سے  بھی نمبر لے گئے. پولیس تھانے جلاۓ جا رہے ہیں، پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ان کے گھروں میں گھسنے کی تلقین کی جا رہی ہے، دوسری طرف ہمارے میڈیا کے چند چینل عجیب سے تجزیے کرتے نظر آ رہے ہیں، کیا یہ  صرف اس لئے کہ پرویز مشرف کا ساتھ دینے والے اس بار انتشار پھیلانے والوں کا ساتھ دے رہے ہیں، جمہوریت کے علمبردار آج جمہوریت کی بساط لپیٹنے کے در پر کیوں ہیں؟

طاہر القادری کے رکاوٹیں ہٹانے کے بیان کے بعد ڈنڈا بردار نمودار ہوئے اور پولیس کے ساتھ ٹکراؤ شروع ہو گیا. اس افراتفری کے دوران ایک پولیس وین بھی جلا دی گئ، کئی ایک پولیس اہلکاروں کو تلقین کے مطابق تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا.

حیرت کی بات یہ کہ وہ ڈنڈا بردار پوری تیاری کے ساتھ تھے، میڈیا رپورٹس کے  مطابق ان کے پاس بلیٹ پروف جیکٹس، پیٹرول بم اور آنسو گیس سے بچاؤ کے ماسک، غلیلیں اور کثیر تعداد میں کنچے (بلور) موجود تھے. جبکے پولیس ربڑ کی گولیوں اور آنسو گیس پر اکتفا کر رہی تھی. ان تمام پروڈکٹس کی موجودگی سے ان کا مقصد واضح ہو جاتا ہے.

لاہور سے پھیلتا ہوا یہ انتشار خوشاب تک پہنچ گیا جہاں تھانے کو  آگ لگا دی گئی اور ڈی ایس  سمیت 3 پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنایا گیا، جبکے ٣ ڈکیتی کے ملزمان  رفو چکر ہو گئے، تھانے کو آگ لگانے کے بعد تھانے میں موجود ہتھیار بھی ہتھیا لئے گئے. ابتدائی رپورٹس کے مطابق پاکستان عوامی تحریک کے جن کارکنوں نے تھانے پر دھاوا بولا تھا وہ اسلحے سے لیس تھے.

 
سارا پاکستان دیکھ رہا ہے کہ کئی دنوں سے منہاج القران سیکریٹیریٹ میں کیا ہو رہا ہے اور وہاں سے کیسے کیسے بیان سامنے آ رہے ہیں. جب لیڈران ہی کارکنوں کو انتشار پھیلانے کی تلقین کریں گے تو باقی رہ کیا جاتا ہے؟ ایک طرف ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس اٹھاۓ پولیس اور دوسری جانب پیٹرول بموں سے لیس لوگ، انصاف آپ خود کریں.

عوامی تحریک کا ایک رہنما بیان دیتا ہوا نظر آتا ہے کہ کارکنوں کو کچھ ہوا تو وفاقی حکومت ذمّہ دار ہو گی، دوسری طرف کہا جاتا ہے کہ کارکنوں کو واپس بلانے کے لئے نہیں کہا جاۓ گا. اس کا مطلب کارکنوں کو کچھ نہ کیا جاۓ، جو چاہے کرتے رہیں.

انصاف کا تقاضہ تو یہ ہے کہ اگر کارکنوں پر آنے والی آنچ کی ذمّہ دار حکومت ہے تو اسی طرح پولیس کے زخمی ہونے، پولیس وین کو جلاۓ جانے، تھانے کو آگ لگانے، ڈی ایس پی اور پولیس  کو یرغمال بنانے، ہتھیار چھیننے اور افراتفری و انتشار پھیلانے کا ذمّہ دار ڈاکٹر قادری کو ٹھہرایا جاۓ اور ان تمام جرائم کی ایف آئ آر بھی ان پر داخل کی جاۓ.

بناسپتی انقلابیوں نے پاکستان کو تماشا بنایا ہوا ہے جس کا دل کرتا ہے منہ اٹھا کے چلا آتا ہے اور پاکستانی عوام کے لئے انقلاب برپا کرنے اٹھ کھڑا ہوتا ہے.

معروف صحافی و تجزیہ نگار رضا رومی صاحب سے اس حوالے سے جب میری بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا؛

"ڈاکٹر طاہرالقادری کے مطالبات اور حرکتیں مسائل پیدا کرنے والی ہیں، جبکہ  حکومت انتظامی معاملات سنبھالنے کے بجاۓ ان معاملات سے نمٹنے میں لگی لگی ہوئی ہے. جمہوریت میں احتجاج سب کا حق ہے لیکن احتجاج کے نام پر توڑ پھوڑ کے سلسلے سے  آنے والے دنوں میں تشدد اور عدم استحکام بڑھنے کے قوی امکانات ہیں. ڈاکٹر طاہر القادری اور ان کے حامیوں نے جو طریقہ کار اپنایا ہے وہ انتہائی شرمناک ہے. قادری صاحب کو چاہیے کے وہ افراتفری نہ پھیلائیں اور اپنے کارکنوں کو قانون ہاتھ میں لینے سے روکیں، یہ طریقہ ان کے مقصد کو حاصل کرنے میں مدد فراہم نہیں کرے گا".

آپ نے درست فرمایا رومی صاحب لیکن ان کا مقصد تو کچھ اور ہی لگتا ہے، جس میں سب کچھ جائز ہے.  

اس وقت افواج پاکستان ملک دشمنوں کے خلاف پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے اور یہ حضرت حکومت اور عوام کا دھیان بھٹکا کر ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے پر تلے ہوئے ہیں، مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ کیسے 'شیخ الاسلام' ہیں جو مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکا رہے ہیں. آخر یہ کیسا انقلاب ہے جو ملک کے اداروں کو آگ لگا رہا ہے.

پاکستانی عوام کا اگر اتنا ہی احساس تھا تو پچھلے سال مزاکرات کر کے بھاگ کیوں گئے؟

اور اگر عوام آپ کے ساتھ ہے تو انتخابات میں حصہ کیوں نہیں لیا؟ آپ انتخابات میں حصہ لے کر نظام درست کرتے نا، اس طرح سڑکوں پر چند ہزار مسلح کارکن نکال کر آپ پاکستان کی اکثریت کو آخر کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ ملک کی عوام کو ایک دوسرے سے لڑوا کر آپ کونسا انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں؟

حکومت گرانے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہےمارشل لا، جو قادری صاحب کا من پسند ہے، ایک بار پہلے بھی حضرت فوجی ڈکٹیٹر کا ساتھ دے چکے ہیں اور جمہوری حکومت کی بساط لپیٹنے میں اپنا کردار ادا کر چکے ہیں.

عوام ان کی "جی ڈی اے" کو نہیں بھولی اور نہ ہی ان کی ریفرنڈم کے لئے دی جانے والی خدمات کو بھولی ہے. اس وقت نظام درست کرنے اور ملک میں حقیقی جمہوریت لانے کا خیال ان کے دماغ میں نہیں آیا؟

اب جبکہ ملک میں ایک جمہوری حکومت قائم ہے تو ان کو دوبارہ نظام اور جمہوریت کا خیال آ گیا، یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ "نو سو چوہے کھا کے بلی حج کو چلی". یہ ملک میں حقیقی جمہوریت لانے کا دورہ جمہوری حکومتوں میں ہی کیوں پڑتا ہے؟  

مارشل لا پاکستان کی عوام کو کسی صورت قبول نہیں لہٰذا قبلہ سے گزارش ہے کہ انتظار کریں اور چار سال بعد کینیڈا کی شہریت ترک کر کے  پاکستان میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لیں اور کامیابی کی صورت میں پارلیمنٹ میں بیٹھ کر نظام ٹھیک کریں.

یہ بلاگ 13اگست 2014 کو ڈان اردو پر شایع ہو چکا ہے.

Wednesday, 6 August 2014

پاکستان یا متاثرستان

پاکستان یا متاثرستان   

تنویر آرائیں


ہٹ جاؤ، ایک طرف کو ہو جاؤ، راستہ دو، پھر نہیں کہنا کچلے گئے، زخمی ہو گئے، لگ گئی، ارے بھئی انقلاب آ رہا ہے ہوشیار باش!


انقلابیے اور تبدیلیے ملک میں سرگرم ہیں، لہٰذا عوام سے گزارش ہے کہ اپنے سامان کی حفاظت خود کریں ورنہ طعنے مت دینا کہ یہ ہو گیا وہ ہو گیا.


کیا کہا، حکومت؟ ارے بھائیو وہ آپ کی حفاظت کیسے کرے گی جو اپنی ہی حفاظت نہیں کر پا رہی، وہ تو بیچارے خوف کے مارے ادھر ادھر بھاگ دوڑ میں لگے ہوۓ ہیں کہ کہیں سے ان حکومت خور انقلابیوں اور تبدیلیوں کو روکنے کا توڑ مل جاۓ.


دیکھا نہیں کیسے مارے مارے سندھ میں بیٹھے انقلاب توڑ پیر کے پاس پہنچ گئے تھے اور پھر پاکستان کو چلانے والی دائی کے پاس، اب دو سو آموں کی پیٹیاں لے کر رشتےداروں سے ملنے.


دیکھو نا یہ بھی کوئی بات ہوئی کہ ایک طرف تو ملک میں جاری توانائی کے بحران پر قابو پانا مشکل ہے، جس پر ضابطے کے لئے عوام کو بارش کی دعاؤں پر لگا دیا ہے. دوسری طرف انقلابیے اور تبدیلیے اپنی اپنی مرلیاں بجا بجا کے میاں صاحبان کا جینا مشکل  کیے جا رہے ہیں.


اب ایسا بھی کیا ہو گیا جو اگر میاں صاحبان کے انتخابی نعرے پورے نہیں ہوئے، ہاں ہاں انہوں نے کہا تھا کہ بجلی کا بحران چھ مہینوں میں، پھر ایک سال، بعد میں ڈیڑھ سال میں ختم نہ کیا تو اسکا نام بدل دینا، اب ٹھیک ہے جوش خطابت میں کہہ ہی دیا تو کیا "کیا بچے کی جان  لو گے"!؟


اس سے پہلے آنے والے کون سا عوام سے کیے ہوئے وعدے پورے کرتے رہے ہیں، انہوں نے نہیں کیے تو کیا قیامت برپا کر دی.

جی بالکل! انہوں نے زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹنے کی بات کی تھی، ابھی وقت ہی کتنا ہوا ہے ان بیچاروں کی حکومت کو بنے ہوئے، صبر تو کرو سب ہو جاۓ گا، اگلی حکومت میں، ارے بھئی اب انقلاب توڑ پیر کے پاس چلے ہی گئے تو کیا غلط کر دیا؟


دیکھو یار پچھلی دفعہ جب انقلابی کنٹینر آیا تھا تو انہوں نے بھی تو پورے ملک کی اپوزیشن اکٹھا کی تھی نا حکومت بچانے کے لئے، تو اب کیا ان کو میاں صاحبان کا ساتھ نہیں دینا چاہیے؟


جی مجھے یاد ہے کہ میاں صاحب نے 5 جون 2013 کی تقریر میں فرمایا تھا کے اقربا پروری اور بے جا نوازشات کا باب بند کر دیں گے، چلو خیر ہے جو انہوں نے اپنے دو درجن رشتےداروں کو بڑی منسٹریاں اور خاص عہدے دے کر نواز ہی دیا، بھلا حکومت میں ہوتے ہوئے اپنوں کو نوازیں بھی نا؟


دیکھیں بھائی تبدیلی یہ ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے اپنے ہاتھوں سے  167 بلین واپس جانے دیے یا 35 بلین ڈولپمینٹ کے لیپس ہو گئے، اب بھلا جب دھاندلی کی حکومت مرکز میں ہو یا پورے پاکستان میں سواۓ خیبر پختونخوا کے، تو بھلا پیسوں کو ترقیاتی کاموں میں خرچ کر کے کیا فائدہ، دوسری بات یہ کہ اگر یہ پیسا ہوتا تو دھیان وہیں لگا رہتا، ایسے میں جلسوں کا کیا ہوتا؟ ظاہر ہے ٹھیک نتیجہ  نہیں دے پاتے نا، پھر بھلا حکومت کیسے جاتی؟

کیا! متاثرین کی بات کررہے ہو؟


اب یہ بھی کوئی بات ہے کرنے والی، ایویں ہر بات کو اشو بنا لیتے ہو پہلی بات کہ پاکستان بننے سے لیکر اب تک کتنے حادثات و قدرتی آفات کے نتیجے میں لوگ متاثر ہوئے ہیں؟ کیا سب کو حکومت سمبھالتی رہی ہے؟


یاد کرو گزشتہ حکومت میں آنے والے سیلاب اور بارشوں میں جو لوگ متاثر ہوئے تھے ان کو راشن کے نام پر کیسے لاٹھیاں پڑیں تھیں اور راشن کارڈ کیسے ملے تھے. تھر کو کیا بھول گئے جس میں اعلانات تو ہوئے تھے ملا کیا یہ آج تک پتا نہیں چل سکا. اس حکومت میں متاثرین کو لاٹھیاں تو نہیں نہ پڑیں، اب اگر دو چار متاثرین کو پولیس والوں نے بلیک میل کر کے لوٹ ہی لیا تو اتنا ہنگامہ کرنے کی کیا ضرورت ہے، دوسری بات یہ کے خیبر پختونخوا حکومت جو کر رہی ہے وہ اس کی مہربانی ہے، وزیرستان ان کے انڈر تھوڑی نہ آتا ہے.


ایک بات اور، اس ملک میں تو متاثرین ہی متاثرین ہیں ایک حکومت کس کس کو سنبھالے؟


کوئی پولیس سے متاثر، کوئی عوامی نمائندوں سے متاثر، کوئی وڈیروں جاگیرداروں سے متاثر تو کوئی بھوک، بیروزگاری، دہشتگردی، بھتے کی پرچوں سے متاثر، صحت کی سہولیات، تعلیمی نظام سے متاثر اب بھلا کس کس متاثر کو سنبھالا جاۓ، ایسا لگتا ہے یہ ملک متاثر خانہ ہے.


رہی بات قادری صاحب کی تو یار پاکستانی عوام بھی بڑی احسان فراموش ہے. اس قوم کے نصیب کو سنوارنے کے لئے وہ کینیڈا سے یہاں تک تشریف لاۓ یہ کیا کم ہے؟ کیا ہوا جو پچھلی بار مزاکرات کر کے چلے گئے، کوئی پہاڑ تو نہیں ٹوٹ گیا اور کیا آپ آئین وائن کی باتیں کر رہے ہو مولانا صاحب نے اتنی کتابیں لکھی ہیں کیا آئین پر ایک آدھ کتاب نہیں لکھ سکتے؟  

دیکھو بھائیو گزشتہ کئی دہائیوں سے آپ انقلاب دیکھتے آئے ہو، کبھی مارشل لا لگا کے انقلاب لایا گیا، کبھی سول مارشل لا نافذ کر کے، کبھی آئی جے آئی بنا کے، کبھی لاشیں گرا کے، کبھی مادر ملت کو ہرا کے، تو کبھی جہازوں کو ہائی جیک کرا کے.

اس کے علاوہ بھی کئی انقلاب اس ملک میں برپا ہوتے رہے ہیں مثال کے طور پہ دہشتگرد بنا کے، کیمپوں میں بھوکا مروا کے، یا پاکستان تڑوا کے. اب اتنے انقلاب تو دیکھ چکے ہو ایک آدھ نئی قسم کا انقلاب اور آ رہا ہے تو چیخ  پکار کیسی.


دیکھو بھئی انقلاب توڑ پیر کا نام تو مت لینا، اگر انہوں نے کہہ ہی دیا ہے کہہ میاں صاحب کو وزیراعظم بنایا ہے بادشاہ نہیں تو اس بیان کو اتنا سنجیدگی سے نہ لیں آخر تحریک انصاف کو 14اگست والی دھما چوکڑی سے روکنے کے لئے میاں صاحب کی مخالفت تو کرنی ہے نہ، اب اس کے لئے پیپلز پارٹی کے ایک سینئر رہنما کو لگا دیا ہے تو اس میں حرج ہی کیا ہے. اگر ایسا نہیں کریں گے تو آپ لوگ کہو گے کے جی انہوں نے "چارٹر آف ڈیموکریسی" پر عمل نہیں کیا.


آپ خوامخواہ حکومت پر تنقید کیے جا رہے ہیں، کتنا کام کر رہی ہے حکومت، دیکھو ڈالر 98 پر لے آئی. اب حکومت کیا کرے اگر اشیاء کی قیمتوں میں کمی نہیں آئی یا عوام کو ریلیف نہیں ملا.

آلو مہنگے ہو گئے تو شور مچا رہے ہو آلو نہیں ہیں، بھئ  شکر قندی کھا لو، آخر ملک مسائل میں گھرا ہوا ہے کچھ تو کمپرومائز آپ کا بھی فرض بنتا ہے نا، شاہ صاحب نے پچھلی حکومت میں نہیں کہا تھا کہ ڈبل روٹی سے کام چلاؤ.


بجلی کے لئے دیکھو نندی پور سمیت کتنے پروجیکٹ لگاۓ جا رہے ہیں اب یہ اور بات ہے کے افتتاح کے دو دن بعد وہ بند ہو گیا اب میاں صاحب خود تو نہیں جا کے مشینیں ٹھیک کر سکتے.

عابد شیر علی بیچارے کا دیکھو کیا حال ہو گیا ہے، گرمی میں اس کا رنگ بھی پھیکا پڑگیا ہے، اتنا کام تو کر رہا ہے اب اگر آپ کو فرق محسوس نہیں ہو رہا تو کیا وہ کھمبوں پر چڑھ جاۓ؟


خواجہ سعد رفیق بھی تو ٹرینوں کی مرمت اور سسٹم میں بہتری کے لئے کوشاں ہے اب انجن خود کھولنے سے تو گیا، یہ کام کرنے لگ جاۓ گا تو تبدییلے اور انقلابیے کو جواب کون دے گا.


اتنے بڑے بڑے کام کر تو رہی ہے حکومت؛ دیکھو میٹرو بھی دے رہے ہے گرین لائن بھی، اب اگر ٹوبہ ٹیک سنگھ میں لوگ چنگچی میں ٹھس ٹھس کر سفر کر رہے ہیں تو اس میں حکومت کا کیا قصور؟

یہ بلاگ 2 اگست 2014 کو ڈان اردو پر شایع ہو چکا ہے.